30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱اول: علی مافی کتب الفقہ،موصی کوتووصیت کرنامستحب ہے لیکن ورثہ پراس کااداکرنا واجب ہے کہ اگرنہ کریں گے توماخوذہوں گے یاکیا؟
۲دوم: زید کی یہ وصیت بکیفیت وعبارت کذائیتین(اعنی مجموعہ ترکہ کے نفع سے نہ اس کے کسی جزومعین کے نفع سے اور بایں عبارت کہ اس قدرروپیہ میری تجہیزوتکفین کے لئے رکھیں اوراتناروپیہ میرے ملك کے لئے غرباء کے لئے رکھیں)شرعًا صحیح ہے یانہیں؟
۳سوم: زیدکے قول(اورمیں خصوصًا اپنے پسران مذکورکواس طرح فرمان وصیت کرتاہوں کہ بعد میرے مرنے کے کاروبار کارخانہ لکڑی جاری رکھیں اورمنافع کاروبار وکرایہ مکانات واراضی سے تمام سرکاری ومینوسپال کے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اورمبلغ ایك ہزارروپیہ برائے میری تجہیزوتکفین کے جمع رکھیں الٰی قولہ اورماہ بماہ مبلغ ۵۰ روپیہ موضع سالولامیرا پاڑہ کی مسجدکے اخراجات کے لئے دیاکریں)کاخلاصہ مضمون یہ ہے یانہیں کہ لکڑی کی تجارت کے نفع اورمکانات واراضی کے کرایہ سے سوامبالغ ٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے باقیماندہ مبالغ سے اتنایوں کریں اوراتنایوں کریں اعنی زیدکایہ قول متضمن استثنائے مبالغ معلومہ کوہے یانہیں؟
۴چہارم: وصیت ازقبیل معاملات ہے یانہیں؟
۵پنجم:برتقدیر زیدکے قول مذکور کے متضمن استثنائے مبالغ معلومہ اوروصیت کے ازقبیل معاملات ہونے کے جیسے کہ بقول معتبر:
|
لایجوزان یبیع ثمرۃ ولیستثنی منھا ارطالا معلومۃ۔[1] |
یہ جائزنہیں کہ وہ پھل فروخت کرے اوراس میں سے کچھ معین رطل مستثنٰی کرلے۔(ت) |
بیع ثمرہ باستثنائے ارطال معلومہ،بوجہ احتمال عدم وجودماسوائے ارطال مستثناۃ کے جائزنہیں ایسے ہی اس کے قیام پربجامع تملیك وصیت دراہم باستثنائے دراہم معلومہ بوجہ مذکورناجائزہوگی یانہیں؟ اوریہ امر ظاہرہے کہ بسااوقات ایساہوتا ہے کہ سواٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے مکانات واراضی وتجارت سے وصول نہیں ہوتا بلکہ کبھی اس میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔
۶ششم: زیدکی یہ وصیت متضمن مضرت ہے اوربعض شارحین مشکوٰۃ شریف حدیث مرفوع ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع