30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ ۱۳۱۷ھ
(کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مسئلہ ۱۳۵: ازرنگون مکان نمبر۸۵ و۸۶ گلی نمبر۳۱ مرسلہ شیخ عبدالعزیز سرکار ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
علمائے دین رحمہم اﷲ تعالٰی رحمۃً واسعۃً فی الدنیا والآخرۃ اس میں کیافرماتے ہیں کہ زیدکے دو وطن تھے ایك قدیم اور دوسرا جدید،اوردوہی بیویاں،ایك وطن قدیم میں شادی کرائی ہوئی،دوسری وطن جدید،اعنی شہررنگون میں بطریق شادی مطابق شرع محمدی نکاح میں لائی ہوئی،زیدنے بفضلہ تعالٰی رنگوں میں بہت کچھ کمایا،پھریہیں کی کمائی سے وطن قدیم اوررنگون دونوں جگہ میں جائداد معتدبہ پیداکی لیکن وطن قدیم تخمینا پانچ ہزار روپیہ سالانہ آمدنی کی کل جائداد کوبحیلہ اپنے وطن قدیم کی ایك مسجد پر وقف کرنے کے جوکہ دس بارہ روپیہ ماہواری کے خرچ کی حاجت نہیں رکھتی وطن قدیم کی بی بی کی اولاد پر روك دیا اور وقف نامہ میں لکھ دیا کہ متولی اس وقف کے یہی لوگ رہیں جوکچھ مصارف مسجد سے بچے اپنے کام میں لائیں۔رنگون کی بیوی کے بطن کی اولاد کو اس میں سے ایك حبہ نہیں دیا اوررنگونی جائداد میں سے وطن قدیم والی اولاد کو حصہ بھی دیا اوراس جائداد کے نفع سے کئی ہزارروپیہ لوگوں کودینے کی اورپچاس روپیہ ماہواری اس مسجد وطن قدیم پرخرچ کرنے کی وصیت بھی کہ چنانچہ یہ امرنقل وصیت نامہ مرسل مع استفتاء سے بخوبی واضح ہوگا،پس چونکہ زیدکی یہ وصیت رنگونی ورثہ کی مضرت یعنی حق تلفی اور وطن قدیم کے ورثہ کی منفعت کے لئے ہے،لہٰذاچند باتیں عرض کرتاہوں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع