30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضروری ہے کہ وہ اس موصی سے پہلے مرجائے تاکہ وارثان فلاں کالفظ صادق آئے ورنہ وصیت باطل ہوجائے گی،ایسی جگہ ذات شخص کاوجودکافی نہیں بلکہ ذات مع اس وصف کے وجودہونا درکار جس وصف کے لحاظ سے وصیت واقع ہوئی ہے۔
|
فی الدرالمختار،شرط صحتہا فی الوصیۃ لورثۃ فلان ومافی معناھا کعقب فلان موت الموصی لورثتہ اولعقبہ قبل موت الموصی لان الورثۃ والعقب انما یکون بعد الموت فلومات الموصی قبل موت الموصی لورثتہ اوعقبہ بطلت الوصیۃ لورثتہ اوعقبہ لان الاسم لایتناولھم الا بعدالموت [1]اھ مختصرًا،وفی رد المحتار قولہ لان الاسم لایتناولھم،فکانت وصیۃ لمعدوم۔[2] |
درمختارمیں ہے فلاں کے وارثوں یا اس کے ہم معنی یعنی فلاں کے پسماندگان کے لئے وصیت کی تو اس وصیت کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ جس کے وارثوں اورپسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ موصی سے پہلے مرے کیونکہ اس کے مرنے کے بعد ہی وہ لوگ اس کے وارث یا پسماندگان بنیں گے اوراگرموصی اس سے پہلے مرگیا اورجس کے وارثوں اور پسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ ابھی زندہ ہے تو اس کے وارثوں یا پسماندگان کے لئے وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ ان پرلفظ ورثاء اورپس ماندگان کااطلاق تو اس کے مرنے کے بعد ہوگااھ اختصار۔ردالمحتارمیں ہے اس کاقول کیونکہ لفظ ورثاء اورپس ماندگان کا ان پراطلاق نہیں ہوتا،لہٰذا یہ معدوم کے لئے وصیت ہوئی۔(ت) |
اوراگربحکم عرف چڑھاوا دُولہا کی ملك ہوتاہے۔(یہ جواب ناتمام دستیاب ہوا)
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع