30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولد لستۃ اشھر او لاکثر احتمل وجودہ وعدمہ فلا تصح،افادہ الاتقانی،قولہ ولومیتا مثل الموت الطلاق البائن[1]۔ |
ہے کہ اگرپورے چھ ماہ پریا اس سے زائد مدت میں پیداہوا توبوقت وصیت اس کاوجود وعدم دونوں محتمل ہوئے،لہٰذا وصیت صحیح نہ ہوئی،ماتن کاقول کہ اگروہ مردہ ہو،طلاق بائن بھی موت کی طرح ہے۔(ت) |
ہندیہ میں ہے:
|
شرطھا کون الموصی اھلا للتملیك و الموصی لہ اھلا للتملک۔[2] |
وصیت کے لئے شرط یہ ہے کہ موصی تملیك کااہل ہو اورجس کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ مالك بننے کااہل ہو۔(ت) |
ولہٰذا صحت وصیت کے لئے شرط ہے کہ یا تواہل حاجت کے لئے واقع ہوجیسے بنی فلاں کے یتیموں یابیواؤں کے لئے کہ اس تقدیر پروصیت حضرت حق عزوجل کے لئے واقع ہوگی اور وہ معلوم ہے ورنہ وہ لوگ معدودقابل شمارہوں جیسے زیدکے بیٹے کہ انہیں تملیك صحیح ہوسکے اوردونوں صورتیں نہ ہوں مثلًا سیدوں یاشیخوں کے لئے تو وصیت باطل ہے، درمختارمیں ہے:
|
الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالٰی و ھومعلوم وان کان لاینبیئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والا بطلت۔[3] |
اگروصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبردے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگی اگروہ قابل شمارنہ ہوں جیساکہ گزرچکاہے کیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالٰی کے لئے واقع ہوئی ہے اور وہ معلوم ہے اوراگرایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوجوحاجت کی خبردیتاہے تواس صورت میں جن کے لئے وصیت کی گئی ہے اگروہ قابل شمار ہیں تب تو وصیت صحیح ہوگی اوراس کوتملیك قراردیاجائے گاورنہ وصیت باطل ہوگی۔(ت) |
ولہٰذ اگروارثان فلاں کے لئے وصیت کی اورفلاں ابھی زندہ ہے توصحت وصیت کے لئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع