30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذا لوقال اقض دینی یرجع علی کل حال[1] ولوقضی نائبۃ غیرہ بامرہ رجع علیہ وان لم یشترط الرجوع ھو الصحیح۔[2] |
خرچ کیا وہ اس کے بارے میں رجوع کرے گا۔اسی طرح اگر کہا تو میراقرض ادا کردے تو وہ ہرحال میں رجوع کرے گا اور اگرکسی کی حاجت اس کے امرپرپوری کردی تو وہ رجوع کرے گا اگرچہ رجوع کی شرط نہ لگائی گئی ہو،یہی صحیح ہے۔(ت) |
فصول عمادیہ وفتاوٰی حامدیہ میں ہے:
|
من قضی دین غیرہ بغیر امرہ لایکون لہ حق الرجوع علیہ۔[3] |
جس نے دوسرے کاقرض اس کے حکم کے بغیر اداکردیا اس کو رجوع کاحق نہیں(ت) |
انہیں میں ہے:
|
المتبرع لایرجع علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیر امرہ[4]۔ |
احسان کرنے والاغیرپررجوع نہیں کرتا جیساکہ کوئی کسی کا قرض اس کے حکم کے بغیر اداکردے(ت) |
چہارم:زیورزوجہ میں موصی کی وصیت اسی قدراثرڈال سکتی تھی جس قدر اس زیورسے موصی کاحصہ شوہری ہوتاباقی حصص کہ ملك اولاد تھے ان کی نسبت اس کی وصیت محض بے معنی ہے اذلاتصرف لابن آدم فیما لایملک(اس لئے کہ ابن آدم کوایسی چیزمیں تصرف کاحق نہیں جس کاوہ مالك نہ ہو۔ت)تویحیٰی وعیسٰی وموسٰی کو وہ کل زیوردے دینااگرچہ باجازت جملہ ورثہ ہو خود انہیں ورثہ کے حصص میں اصلًا مؤثرنہ ہوگا کہ غایت درجہ ان کی یہ اجازت اجازت تملیك بلامعاوضہ ہوگی کہ عین ہبہ ہے اورہبہ مشاع باطل اورباطل کی اجازت مہمل۔ہدایہ میں ہے:
|
من اوصی من مال رجل لاٰخر بالف بعینہ فاجاز صاحب المال بعد موت الموصی فان دفعہ فھو جائز ولہ ان یمنع لان ھذا تبرع بمال الغیر فیتوقف علی اجازتہ واذااجاز یکون تبرعا منہ ایضا فلہ |
جس نے کسی شخص کے لئے غیرکے مال سے ایك ہزارمعین درہموں کی وصیت کردی اورموصی کی موت کے بعد اس غیر یعنی مالك مال نے اس کی اجازت دے دی پھراگر اس نے وہ مال اس کے سپردکردیا جس کے لئے وصیت کی گئی ہے تو جائزہے اورمالك کواختیارہے کہ وہ مال کو روك لے |
[1] فتاوٰی قاضی خان کتاب الکفالۃ فصل فی الکفالۃ بالمال نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۹
[2] فتاوی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی الفصل الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۶۹
[3] العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳
[4] العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع