30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کاوارثوں کے لئے ہونامضرنہیں،
|
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الا لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔[1] |
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگر اس صورت میں کہ باقی وارث اسے جائزقراردیں(ت) |
اوروصیت میں جبکہ اس کی تنفیذ کسی شیئ کوبیچنے کے ساتھ مذکور ہوتووصی پراس کااتباع لازم نہیں اسے رواہے کہ وہ شیئ نہ بیچے اوردوسرے مال سے وصیت نافذ کرے۔ آدب الاوصیاء میں ہے:
|
فی المحیط والظھیریۃ والخلاصۃ اوصی بان یکفنہ من ثمن ھذا العین قال ابوالقاسم للوصی ان یکفنہ من ثمن عین اٰخر ولایبیع تلك العین و تلك العین تکون للورثۃ وان وجد لما اوصی ببیعہ مشتریا ولا یضمن الوصی۔[2] |
محیط،ظہیریہ اورخلاصہ میں ہے کسی نے وصیت کی کہ فلاں معین چیزکے ثمن سے اس کوکفن دیاجائے ابوالقاسم نے فرمایا وصی کو اختیارہے کہ کسی دوسرے چیزکے ثمن سے کفن دے اوراس معین چیز کوفروخت نہ کرے اوریہ معین چیز سب ورثاء کی مشترکہ قرارپائے گی اگرچہ جس چیز کو فروخت کرنے کی وصیت تھی اس کاکوئی خریدار بھی موجود ہو،ایسی صورت میں وصی ضامن نہ ہوگا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
فی الخاصی اوصی بان یتصدق منہ کذا وکذا وقرا من الحنطۃ وعین لثمن تلك الحنطۃ نوعا من اموالہ کثمن دارہ فجعل الوصی من غیر ذٰلك المال قال |
خاصی میں ہے کسی نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے اتنی اتنی مقدارگندم کی صدقہ کی جائے اوراس گندم کی قیمت کے لئے اس نے اپنے اموال میں سے کوئی نوع متعین کردی جیسے اپنے گھرکی قیمت،وصی نے کسی اورمال سے صدقہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع