30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عقودالدریہ میں ہے:
|
ماجری بہ العرف فی الرجوع علی الاٰمر یرجع[1]اھ اقول:ھذہ مسئلۃ اضطربت فیھا اقوال العلماء اصلًا وفرعًا فاصلوا اصولا لاتنضبط وفرعوا فروعا لاتلتئم واراد العلامۃ الشامی تحریرھا فی العقود فلم یتھیألہ الا الاقتصار علی بعض فروع نقلت مع طرح جمیع الاصول التی اصلت وللعبد الضعیف ھٰھنا کلام ذکرتہ فیما علقت علیھا وھٰذا الذی اخترتہ ھنا واضح جلی لاخفاء بہ ان شاء اﷲ تعالٰی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جس چیز کا آمرپررجوع کرنے میں عرف جاری ہو وہاں رجوع کرے گااھ۔میں کہتاہوں اس مسئلہ میں علماء کرام کے اقوال اصول وفروع کے اعتبارسے مضطرب ہیں۔انہوں نے کچھ ایسے اصول بنائے جو منضبط نہیں اور کچھ ایسے فروع ذکرکئے جو مجتمع ومربوط نہیں۔علامہ شامی علیہ الرحمہ نے عقود میں ان کی تحریرکرنے کاارادہ فرمایا تو انکو میسرنہ ہوا سوائے بعض فروع پر اقتصارکرنے کے جونقل کئے گئےباوجودیکہ انہوں نے وہ اصول چھوڑدئیے جووضع کئے گئے ہیں۔اور اس عبدضعیف کایہاں کچھ کلام ہے جس کو میں نے شامی پر اپنی تعلیقات میں ذکرکیا ہے۔اور وہ جس کومیں نے یہاں اختیارکیاوہ بالکل واضح وروشن ہے اس میں ان شاء اﷲ تعالٰی کوئی پوشیدگی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۳۴: ازریاست مرسلہ ۲۸/محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ۱۲۷۸ہجری میں انتقال کیا اوراپنے چاروں بیٹے محمدزکریا،محمدیحیٰی،محمد عیسٰی،محمدموسٰی بالغ ونابالغ اوربیٹی بالغہ اورحافظ محمدعظیم صاحب خسر ۳۸سال،۲۰سال،۱۲سال کے سامنے یہ وصیت کی اس وصیت کو سب ورثاء نے تسلیم کیا اور اس پر عملدرآمد کیا اب یحیٰی و عیسٰی اپنا بقیہ ورثہ تقسیم کراتے ہیں اوربڑابھائی مصرف خورد ونوش وپارچہ وخرچ شادی یحیٰی وعیسٰی جواس نے اپنے پاس سے زید کے انتقال کے بعد سے ان پرکیا ہے طلب کرتا ہے یحیٰی و عیسٰی یہ عذرکرتے ہیں کہ جو کچھ آپ نے ہم پرصرف کیا تبرعًا واحسانًا تھا یہ ہم سے مجرانہ ہوناچاہئے نیزبروقت وصیت ہم نابالغ تھے اورقطع نظر اس ۱۳۰۳ھ میں جوتحریرفریابین برادران ہوئی جس میں محمدیحیٰی نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع