30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مصرح بھا فی کلمات الائمۃ۔ |
نافذنہیں ہے جیساکہ اس سے پیشترفروع ظاہرہیں جن کی ائمہ کرام کے اقوال میں تصریح کی گئی ہے۔(ت) |
بلکہ اگرخدیجہ بی نے درخواست بھی کی کہ میراعلاج کرو اور اس کے سوا کوئی شرط رجوع وواپسی درمیان نہ آئی نہ وہاں عرف عام سے ثابت ہوکہ ایسی صورت میں شوہر جوکچھ معالجہ زوجہ میں اٹھائے اس سے واپس پائے توبھی حسام الدین کو دعوی نہیں پہنچتا لعدم مایوجبھا من نص اوعرف(کسی نص یاعرف کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جو اس کو واجب کرے۔ت)ہمارے بلاد کاتوعرف یہ ہے کہ شوہر جواپنی بی بی کے علاج میں صرف کرتاہے وہ یاعورت کسی کے خیال میں واپسی کاوہم بھی نہیں گزرتا ہاں اگرخدیجہ بی سے صراحۃً واپسی کی شرط ہوگئی تھی یاوہاں کے عرف عام کی روسے استحقاق واپسی ثابت ہے تو ضرور اختیار واپسی ہوگا فان المعہود عرفا کالمشروط لفظا(کیونکہ جو باعتبار عرف کے معہود ہو ایسے ہی ہے جیسے باعتبار لفظ کے اس کی شرط لگائی گئی ہو۔ت)درمختارمیں ہے:
|
لارجوع ولوبامرہ الا اذا قال عوض عنی علی انی ضامن،لعدم وجوب التعویض بخلاف قضاء الدین (و)الاصل ان(کل مایطالب بہ الانسان بالحبس والملازمۃ یکون الامر بادائہ مثبتا للرجوع من غیر اشتراط الضمان ومالافلا)الا اذا شرط الضمان ظھیریۃ[1]الخ قلت وانت تعلم ان الدواء ممالایجب اصلا فضلا عن ان یکون لہ مطالب من جھۃ العبد فضلا عن ان یکون طلبہ بحبس اوملازمۃ فلارجوع فیہ من دون شرط شیئ من ھذہ الاصول۔ |
اس میں رجوع نہیں اگرچہ اس کے امرسے خرچ کرے مگریہ کہ جب کہے تومیری طرف سے بدلہ دے اس شرط پرکہ میں ضامن ہوں کیونکہ تعویض واجب نہیں بخلاف قرض کی ادائیگی کے۔اورضابطہ یہ ہے کہ جس چیزکاانسان سے حبس و ملازمہ کے ساتھ مطالبہ کیاجاتاہے اس کی ادائیگی کاامر رجوع کوثابت کرنے والاہے ضمان کی شرط لگائے بغیر،اوراگر ایسانہ ہو تورجوع ثابت نہ ہوگا جب تك ضمان کی شرط نہ لگائے، ظہیریہ الخ۔میں کہتاہوں توجانتاہے کہ دوا ان چیزوں میں سے جوبالکل واجب نہیں چہ جائیکہ بندے کی طرف سے اس کاکوئی مطالبہ کرنے والا ہو اورچہ جائیکہ اس کامطالبہ حبس و ملازمہ کے ساتھ ہو،لہٰذا اس میں کسی اصول کی شرط کئے بغیر رجوع کا حق نہ ہوگا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع