30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگرخدیجہ بی کے کوئی اوروارث نہ تھا،نہ اس پراس بیان شوہرکے سواکسی اورکا ایسادین ہے جو اس سے ملاکر مقدارترکہ سے بڑھ جائے،نہ اس کے پسر متوفی پرکسی کااتنادین آتاہے کہ ترکہ خدیجہ بی سے دین شوہر وغیرہ اداکرکے باقی سے جوحصہ پسرکوپہنچے اس کی مقدار سے زائدہو جب تویہ شوہر کادعوی محض بے معنی ہے کہ خدیجہ بی کے پاس کا اگرکچھ مال حسب بیان فیض النساء بیگم ملك فیض النساء بیگم ہوناثابت ہوتو اس میں سے خرچ دوائے خدیجہ بی پانے کے کوئی معنی نہیں وہ توفیض النساء بیگم کوواپس دیا جائے گا اور جب خدیجہ کاسوائے پسروشوہر اوراس پسرکے سوائے پدرکوئی وارث نہ رہا توجومال خدیجہ کاٹھہرے اس کاوارث صرف حسام الدین ہے،دوسرے کسی دائن کااگرخدیجہ بی پرکچھ آتاہو تو جس حالت میں ترکہ اس کے دَین کو گھٹاسکے نہ نہ کرنا بڑھاسکے اسی طرح جبکہ ترکہ خدیجہ بی سے دَین شوھر وغیرہ اداکرکے بھی جوبچتاہے اس میں سے حصہ پسر دَین پسرکوکافی ہے توشوہر کاترکہ پردین کادعوی نہ اپنے استحقاق کوبڑھاسکے نہ نہ کرنا گھٹاسکے،بہرحال دعوی وعدم دعوی ہرصورت میں اس کا استحقاق ایك ہی مقدارپررہتاہے خواہ اس پر دَین ثابت کرکے قرض میں لے لے یا بے ثابت کئے میراث میں لے،ایسافضول دعوی قابل سماعت نہیں ہوتا ہاں اگرخدیجہ بی کے بعد اس کاکوئی وارث بھی رہا(کہ نظر بتقریر سوال وہ اس کی نانی ہی ہوسکتی ہے، تو دعوی شوہرنافع ہے تاکہ میراث سے پہلے یہ بذریعہ دین بعض یاکل متروکہ لے،یونہی اگردوسرے دائن کا دَین ایساہے کہ اس کے دعوی سے مل کرمقدار ترکہ سے زائد ہوجائے گا تونافع ہے کہ ترکہ دونوں دَین پر حصہ رسد بٹ جائے،اسی طرح اگرپسر متوفی پرویسادین ہوتونافع ہے کہ اول شوہرکادین ترکہ خدیجہ بی سے اداکیاجائے گا،اگرکچھ نہ بچے گا دائن پسر کچھ نہ پائے گا اوربچے گاتوباقی سے جس قدر حصہ پسرہے وہ اس میں سے لینے کامستحق ہوگا،اوربے دعوی زائد میں سے پاتا وھذا کلہ ظاھر بادنٰی حساب(یہ تمام ادنٰی حساب کے ساتھ ظاہرہے۔ت)ان صورتوں میں دعوی شوہرالبتہ قابل سماعت ہے،اب حکم مسئلہ یہ کہ اگر حسام الدین نے بطور خودا پنی زوجہ کے دو ادارو میں اپنامال صرف کیاتو دعوی باطل ہے اور واپسی کامستحق نہیں۔
|
فان من انفق فی امر غیرہ بغیرامرہ غیر مضطر الیہ فلایرجع علیہ اذ لم یکن نافذ لتصرف فیما لدیہ کما ابانت عنہ فروع جمۃ |
جب کوئی غیرکے معاملے میں اس کی اجازت کے بغیرخرچ کرے اور وہ اس خرچ کرنے میں مجبورنہ ہوتو اسے رجوع کا حق نہیں اس لئے کہ جوکچھ اس کے پاس ہے اس میں اس کا تصرف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع