30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۳۲: ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ رامپورہ مرسلہ شیخ عبدالمجیدصاحب سب سروئیر ۱۴محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین نسبت مسائل ذیل کے،زید کی منکوحہ اولٰی متوفی سے ایك پسر بکربالغ اور منکوحہ ثانی موجودہ سے دوپسرعمروسعد نابالغ بعد وفات زیدباقی ہیں،زیدپرجوقرض تھا بکرنے اداکیا اور نیزواسطے خرچ شادی وخوردونوش نابالغان کے اپنے نام یابشمول نام مادرقرض لے کر صرف کیا اس قرض سے کچھ اداہوا کچھ باقی ہے،اب عمروسعد بھی بالغ ہیں اوردرباب تقسیم جائداد وادائے قرضہ سابق وحال تنازع ہے،لہذا علمائے شریعت مطلع فرمائیں کہ مکانات موروثی کس طرح تقسیم ہوں اور قرضہ سابق وحال حسب سہام کل شرکاء پرچاہئے یاقرضہ سابق وحال میں کچھ تفریق ہے اورجومکان بکرنے اپنے روپے سے خریدا اس میں دوسرے برادران کوحصہ پہنچتاہے یانہیں؟ اورمنکوحہ اولٰی جوزیدکے حیات میں فوت ہوگئی اس نے اپنی وفات کے وقت زیدکو مہرمعاف کردیاتھا اورمنکوحہ ثانیہ نے کہ اب زندہ ہے وقت وفات زید مہر معاف کردیا اورہماری برادری میں مہروں کایہی دستورہے یہ بھی واضح ہو کہ بعد وفات زید کھانا جملہ شرکاء کایکجارہا۔جب نابالغ بالغ ہوئے علیحدہ ہوگیا۔بینوا توجروا۔
الجواب:
قرض مورث کہ بکرپسربالغ نے اداکیا تمام وکمال ترکہ مورث سے مجراپائے گا جبکہ وقت ادا تصریح نہ کردی ہوکہ مجرانہ لوں گا۔
|
فی فتاوٰی قاضیخان والعالمگیریۃ وغیرھما بعض الورثۃ اذا قضٰی دین المیت کان لہ الرجوع فی مال المیت والترکۃ انتھٰی[1] مختصرًا۔وفی جامع الفصولین والاشباہ وغیرھما لواستغرقہا دین لا یملکھا بارث الا اذا ابرأ المیّت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء امّا لوادّاہ من مال نفسہ مطلقًا |
فتاوٰی قاضی خان اورعالمگیریہ وغیرہ میں ہے کسی وارث نے میت کاقرض اداکیاتو اسے میت کے مال اورترکہ کی طرف رجوع کاحق حاصل ہے انتہٰی۔جامع الفصولین اوراشباہ وغیرہ میں ہے اگردین ترکہ کومحیط ہے تووارث میراث کے ساتھ اس ترکہ کامالك نہیں بنے گا،مگریہ کہ قرض خواہ میت کو بری کر دے یامیت کے وارث نے ادائیگی کے وقت بشرط تبرع قرض اداکیاہولیکن اگراس نے مطلقًا اپنے مال سے قرض اداکیا ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع