30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
موجوداصحت الوصیۃ[1] وبھذا التفصیل اتی فی الدرالمختار[2] معزیا للعنایۃ حاشیۃ الھدایۃ والجوھرۃ وشرح التکملۃ۔ |
اگربیٹا موجودنہ ہوتو وصیت صحیح ہوگی۔اوریہی تفصیل در مختارمیں لائی گئی جس کوہدایہ کے حاشیہ عنایہ،جوہرہ اورشرح التکملہ کی طرف منسوب کیاگیا۔(ت) |
پس بلاشبہہ یہ تصرف صحیح اوربوجہ قبول محمد باقرنافذہوکر سہام موصی لہا بعد محمدباقرکے اس کے ورثہ شرعی کی طرف منتقل ہو گئے امام النساء ان سے اپنے حصہ کی مالك ہوئی اب کہ بوجہ کبرسن وپیرانہ سال اس کے عقل میں قصور اورحواس میں فتور اس درجہ ہوگیاکہ نجاست وطہارت میں تمیزنہیں کرتی اورقلت فہم و اختلاط کلام وفساد تدبیر اسے لازم،تو وہ معتوہہ ہے اورکل تصرفات قولیہ سے محجورہ۔
|
قال الفاضل المحقق محمد بن علی بن محمد علاؤ الدین الدمشقی الحصکفی فی الدرالمختار فی تفسیر الحجر ھو منع من نفاذ تصرف قولی وسببہ صغر و جنون یعم القوی والضعیف کما فی المعتوہ [3]اھ ملتقطا،قال شیخہ العلام خیرالملۃ والدین الرملی فی فتاواہ ان کان قلیل الفھم مختلطا فاسد التدبیر لکن لایضرب ولایشتم فھو المعتوہ[4] و مثلہ فی العالمگیریۃ وغیرہ۔ |
فاضل محقق محمدبن علی بن محمد علاء الدین دمشقی حصکفی نے حجر کی تفسیرکرتے ہوئے درمختارمیں فرمایاکہ وہ تصرف قولی کو نفاذ سے روکنا ہے اوراس کاسبب نابالغ ہونا اورمجنون ہونا ہے،عام ازیں کہ جنون قوی ہو یاضعیف جیساکہ معتوہ میں ہوتاہے الخ التقاط،ان کے شیخ علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ اگروہ تھوڑی سمجھ والا گفتگو میں خلط ملط کرنے والا اورفاسد تدبیروالا ہے لیکن وہ کسی کو مارتانہیں اور نہ ہی گالیاں دیتاہے تو وہ معتوہ ہے اوراسی کی مثل عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔(ت) |
پس ایسی حالت میں اگراس نے کسی کے آمادہ کرنے خواہ اپنی خواہش سے وصیت کی توہرگز نافذ نہ قرارپائے گی اورتوریث ترکہ امام النساء حسب بیان مجیب اول ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع