30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۳۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ نذرعلی کے تین زوجہ اورتین پسراورتین دختر،زوجہ اولٰی سے ایك پسر ذو الفقارعلی،اور زوجہ ثانیہ سے دوپسر اوردودختر،اور زوجہ ثالثہ سے ایك دختر۔ذوالفقارعلی نے روبرو شیخ نذرعلی کے انتقال کیا،ایك زوجہ اورایك پسرمحمد باقروارث چھوڑے،شیخ نذرعلی نے اپنی حیات میں روبرو دیگرورثہ کے محمدباقر پسرذو الفقارعلی کوکہ عندالشرع محجوب تھا عوض دین مہراپنی زوجہ یعنی والدہ ذوالفقارعلی کے جوترکہ کہ شیخ ذوالفقارعلی کوبواجب شرع بعد شیخ نذرعلی کے ملتا وہ بنام نہاد محمدباقرکردیا اورجملہ ورثاء نے قبول کرلیا حیات شیخ نذرعلی میں زوجہ اولٰی وثانیہ نے بھی رحلت کی اوربعدانتقال شیخ نذرعلی کے ایك زوجہ کے دوپسرتین دخترایك محمدباقر پسرذوالفقارعلی وارث رہے۔
الجواب:
پسرکے لئے وصیت بشرطیکہ پسرموجودنہ ہو جائزہے کہ یہ تقدیر واندازہ ہے نہ وصیت بمال الغیر اذلاحق لابن مات قبل ابیہ فی ترکۃ ابیہ(اس لئے کہ باپ سے پہلے مرجانے والے بیٹے کاباپ کے ترکہ میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ت)ہدایہ میں ہے:
|
اذا اوصی بنصیب ابنہ فالوصیۃ باطلۃ ولواوصی بمثل نصیب ابنہ جاز لان الاول وصیۃ بمال الغیر لان نصیب الابن مایصیبہ بعدالموت والثانی وصیۃ بمثل نصیب الابن ومثل الشیئ غیرہ وان کان یتقدربہ فیجوز [1]اھ قلت وقیدہ الشراح بمااذاکان الابن موجودا قالوا وان لم یکن |
اگراپنے بیٹے کے حصے کی وصیت کی تو وصیت باطل ہے۔اور اگربیٹے کے حصے کے مثل کی وصیت کی توجائزہے،کیونکہ پہلی صورت میں مال غیر کی وصیت ہے کیونکہ بیٹے کاحصہ وہ ہے جو اس کوباپ کی موت کے بعد حاصل ہوگا اور دوسری صورت میں بیٹے کے حصہ کی مثل وصیت ہے اورشیئ کی مثل شیئ کاغیرہوتی ہے اگرچہ شیئ کے ساتھ اس کااندازہ کیاجاتا ہے چنانچہ یہ جائزہوگی اھ میں کہتاہوں شارحین نے اس کے ساتھ قید لگائی یہ کہ جب بیٹاموجودہو۔انہوں نے کہاکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع