30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانچ سہم وکالت بیگم اورچودہ کریم الدین ونصیرالدین اورسات فضیلت بیگم کوملیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنو نے اپنی جائداد اپنی زوجہ اگھانی کے ہاتھ بعوض دین مہرکے بیع کی،پھراگھانی ورثہ حسب تفصیل ذیل چھوڑ کرفوت ہوئی،اب سنونے اپنی موت کے دوایك روزپیشتر بحالت علالت ایسی کیفیت میں کہ صاحب فراش ہوگیاتھا اورطاقت نشست وبرخاست نہ رہی تھی اپنی بیٹی معصومہ کے ہاتھ بیع کی اور مر گیا اورباقی ورثہ بیع ثانی کی اجازت نہیں دیتے،اس صورت میں وہ انتقال سنوکاکہ اس نے اپنی زوجہ کے ہاتھ کیا شرعًا صحیح ونافذ ہے یانہیں؟ اوراس انتقال ثانی کاکیاحکم ہے؟ اورترکہ اگھانی کااس کے ورثہ پرکس طرح منقسم ہوگا؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
سنونے کہ اپنی جائداد بعوض دین مہراپنی زوجہ کے ہاتھ بیع کی اس کی صحت میں شبہہ نہیں،بعد اس انتقال کے اس جائداد کی مالك اگھانی قرارپائے گی اور وہ اسی کاترکہ ٹھہرے گا،پھراس کی وفات کے بعد سنونے جواپناحصہ اپنی بیٹی کے ہاتھ مرض موت میں بیع کیا اورباقی وارث اسے روانہیں رکھتے تو وہ بیع باطل محض ہوگئی اور وہ حصہ بھی حسب فرائض کل ورثہ پرمنقسم ہوجائے گا۔
|
فی الخانیۃ ومن الموقوف اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذٰلك المرض ولم یجز الورثۃ بطل البیع[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
خانیہ میں ہے اگرمریض نے مرض الموت میں اپنے کسی وارث کے ہاتھ اپنے مال میں سے کوئی عین شیئ فروخت کی توبیع موقوف رہے گی۔اگروہ صحت مند ہوگیا تو بیع جائزہو جائے گی۔اوراگراسی بیماری میں مرگیا اورباقی وارثوں نے اجازت نہ دی تو بیع باطل ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع