30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ادائے قرض ومہر زوجہ اگر ذمہ محب اﷲ ہوں جومال باقی بچے گا اس کاتہائی جگاکوملے گا اوردوتہائی باقی چارسہام پرمنقسم ہوکر ایك سہم عجوبہ اورتین چھدا کوپہنچیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی جائداد سے ایك حقیت کی بنام اپنی نواسی سلمٰی بنت لیلٰی اور حقیت اورپانچ روپیہ ماہوار ملاکرنے کی،اپنے پانچ بھتیجوں کے نام وصیت کی،اورایك بیٹی لیلٰی اورپھرپانچ بھتیجے حقیقی اور ایك بھتیجی علاتی اوربھاوج اوربھتیجیاں اورایك بھائی کہ پہلے سے مفقودالخبرہے وارث چھوڑکرانتقال کیا،اس صورت میں ترکہ اس کا شرعًا کس طرح منقسم ہوگا اوربرادر مفقودکے لئے اگرکچھ حصہ امانت رکھاجائے گا تو وہ حصہ اس کی بی بی بیٹی کے قبضہ میں دے دیں گے یا کیا؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اول ہندہ پرجودین ہو،اداکیاجائے بعدہ جوباقی بچے اس کے تین حصے مساوی کئے جائیں کہ ایك حصہ میں دونوں جائداد موصٰی بہا جن کی وصیت بنام سلمٰی دخترلیلٰی وبنام برادرزادگان ہوئی ہے داخل ہوں اوراس حصہ کانام مثلًا"ثلث وصیت"رکھیں دوثلث باقیماندہ سے بالفعل ایك ثلث لیلٰی کو دے دیاجائے اس کانام"ثلث وراثت"فرض کیجئے تیسراحصہ کہ باقی رہا اسے"ثلث موقوف"سے نامزد ٹھہرائیے،اب ثلث وصیت ہے کہ حسب اظہارزبانی سائل ان وصایا کے لئے کافی بلکہ زائد ہے جس قدر جائداد کی وصیت بنام سلمٰی بنت لیلٰی کی ہے بالفعل اس کانصف سلمٰی کودیاجائے باقی کل جائداد تاظہور حیات مفقود کسی ایسے امین دیانتدار کے ہاتھ میں امانت رہے جس طرح کسی طرح اس میں تصرف بے جا اور ایك پیسہ ناحق لینے کاگمان نہ ہو۔
|
قال العلامۃ البدر العینی رحمۃ اﷲ علیہ فی البنایۃ و یوضع علی یدعدل الٰی ان یظھر المستحق[1]۔ |
علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اﷲ علیہ نے کہا بنایہ میں ہے کہ مستحق کے ظاہرہونے تك اس کو کسی عادل کے قبضہ میں رکھ دیاجائے گا۔(ت) |
اب اس امین کے ہاتھ میں ثلث موقوف توتمام وکمال ہے اورثلث وصیت سے نصف وصیت سلمٰی نکال کرباقیماندہ اس کی امانت میں ہے اس باقیماندہ کی جائداد تین نوع پرہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع