30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
وہ ولی جسے مال یتیم میں تصرف جائزہو تین ہیں،باپ کاوصی،دادا اوردادا کاوصی۔ان کے سوا اوراقارب اگرچہ مادروبرادر وعم و خواہرہوں انہیں راسا تصرف فی المال کااختیارنہیں۔
|
فی الدرالمختار ولیہ احداربعۃ الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ[1]اھ ملخصًا۔ |
درمختارمیں ہے اس کا ولی چارمیں سے کوئی ایك ہوگا باپ پھر اس کاوصی۔دادا پھراس کا وصی اھ تلخیص۔(ت) |
اب رہے اولیائے ثلٰثہ انہیں بھی یہ مجال نہیں کہ مال یتیم کسی کوبخش دیں یاہدیۃً دیں یاکسی طرح کا تبرع اس سے عمل میں لائیں،نہ مہدی الیہ یاموہوب لہ کو اس کالیناجائز،اگرچہ ہزار قرابت رحمی رکھتایا تالیف ومحابت کاقصدکرتاہو۔
|
قال تبارك وتعالٰی" اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾ "[2] |
(اﷲ تبارك وتعالٰی نے فرمایا)جولوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں یونہی ہے کہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور جلدپیٹھیں گے دہکتی آگ میں(ت) |
اورشرط عوض بھی کچھ نافع نہیں کہ ہبہ بشرط العوض اگرچہ انجام میں بیع ہوجاتی ہے مگرابتداءً ہبہ ہے اور وہ یہاں محض ناجائز،یہاں تك کہ ہمارے امام کے نزدیك باپ کو بھی اختیارنہیں کہ اپنے نابالغ بچہ کامال بشرط عوض کسی کو دے۔
|
فی الدرالمختار من الھبۃ عن الخانیۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولوبعوض لانھا تبرع [3] وفیہ ایضا لایخفی ان ماھو تبرع ابتداء ضارفلا یصح باذن ولی الصغیرکقرض [4]اھ۔ |
درمختار کے باب الہبہ میں خانیہ سے منقو ل ہے کہ باپ کو یہ جائزنہیں کہ اپنے نابالغ لڑکے کے مال سے کچھ ہبہ کرے اگرچہ اس پرکچھ بھی لے کیونکہ یہ تبرع ہے۔اسی میں یہ بھی ہے پوشیدہ نہ رہے کہ جو ابتداء کے اعتبارسے تبرع ہو وہ مضرہے چنانچہ ولی صغیر کی اجازت سے صحیح نہیں ہوسکتا جیسے قرض اھ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع