30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگر وہ مال کل متروکہ شخص مذکور بعد ادائے مہرودیگر دیون کے ثلث سے زائدنہیں تووصیت بلااجازت ورثہ نافذہ ہے بہن کہ وصیہ ہے بلااطلاع ورثہ صدقہ کرسکتی ہے اوراگرزائد ہے تو صرف قدرثلث تصدق کرسکتی ہے زیادہ میں حاجت اجازت ورثہ ہے اگراجازت نہ دیں قدر زائدانہیں واپس دے اوراگرمہریا اورکوئی دین تمام ترکہ کومحیط ہے تووصیت اصلًا نافذنہیں سب مال دین میں دیاجائے گا مثلًا مورث نے تین سوروپے کامال وصیہ کے پاس رکھوایا اورسات سوروپے کااورمتروکہ ہے اور اس پرمہروغیرہ کوئی دین نہیں توظاہرہے کہ تین سوروپیہ ہزارروپے کے ثلث سے کم ہیں یا اس صورت میں مثلًا سوروپے کامہروغیرہ دین ہے توہزارمیں سے دین کے سو نکل کر نوسورہے یہ تین سوروپے ان کے ثلث سے زائدنہیں ان دونوں صورتوں میں پورا تین سو کامال بہن تصدق کردے اور اگرمہروغیرہ دیون کی مقدارچارسوروپے ہے توبعدادائے دیون چھ سوبچیں گے تین سومیں اس کے ثلث سے سوروپے زائد ہیں لہٰذا دوسوتصدق کرے اورسوکاتصدق اجازت ورثہ پرموقوف ہے اوراگرہزار روپے یا اس سے زائدمقدار مہرودیون ہے توکچھ تصدق نہ کرے سب ان کی ادامیں صرف کیاجائے۔
|
والاحکام کلھا واضحۃ جلیلۃ معلومۃ متداولۃ فی عامۃ الکتب الفقھیۃ۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اوراحکام تمام کے تمام واضح،روشن،معلوم اورفقہ کی عام کتابوں میں موجودہیں۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۲۲: ۲۲/صفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے پاس(ماصہ) روپے بکرکے جمع ہیں اوربکر مرگیا اور اس کی وارث ایك بی بی ہے کہ اس نے اب دوسرانکاح کرلیاہے اورایك بھائی حقیقی اوردوبھائی چچازادہیں توہرایك کو اس میں سے کس قدرحصہ ملنا چاہئے اورسوائے اس کے ارادہ بکرکاحج کا تھا اورحج اس پرفرض بھی تھا لیکن مرتے وقت کوئی وصیت اس روپے کی بابت نہیں کی تھی سو اس صورت میں زید اگرچاہے تو اس کی طرف سے حج بھی کراسکتاہے یانہیں فقط مکرریہ کہ مرتے وقت بکرکے حواس بھی درست نہیں تھے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید کو اس روپے میں کسی تصرف کا اختیارنہیں کہ وہ امانت دارتھا اب اس امانت کے مالك وارثان بکرہوئے زیدپرواجب ہے کہ سب روپے انہیں واپس دے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع