30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
موتہ منہ لانھا امراض مزمنۃ[1]اھ ملخصًا |
موت کا خوف اس بیماری سے نہ رہا ہو کیونکہ یہ لمبی بیماریاں ہیں اھ تلخیص(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف کفایۃ[2]۔ |
خوف سے مراد خوف کاغالب ہونا ہے نہ کہ نفس خوف،کفایۃ (ت) |
اسی میں ہے:
|
المانع من التصرف مرض الموت وھو مایکون سببا للموت غالبا وانما یکون کذٰلك اذاکان بحیث یزداد حالا فحالا الی ان یکون اٰخرہ الموت[3]۔واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔ |
تصرف سے مانع مرض الموت ہے اور وہ غالبًا موت کاسبب ہوتی ہے۔اور بیشك ایسااس لئے ہوتاہے کہ بیماری دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تك کہ اس کی انتہاء موت پرہوتی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۱۹: ۲۲/رمضان المبارك ۱۳۱۲ھ مرسلہ جمیل احمد صاحب پیلی بھیت محلہ پکریا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد سے بقیدحیات اپنے عمرو کے واسطے اوربعد انتقال عمرو کی زوجہ کے واسطے مبلغ دوروپیہ مشاہرہ مقررکیاتھا بقضائے الٰہی زیداورعمرو نے انتقال کیا اورزوجہ عمرومتوفی موجود ہے اس حالت میں زوجہ مذکورہ اس مشاہرہ مقررہ کی جوزید نے یعنی بقیدحیات مقررکیاتھا شرعًا ورثاء زیدسے مستحق پانے کی ہے یانہیں؟
الجواب:
سائل مظہرکہ بعد انتقال سے مراد بعد انتقال عمروہے تویہ وصیت نہ ہوئی فان الوصیت انما تکون مضافۃ الی مابعد الموت(کیونکہ وصیت تو موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ت)بلکہ صرف اپنی زندگی تك ایك تبرع کاوعدہ تھا ولا جبر علی تبرع ولاعلی وفاء وعد(تبرع اور وعدہ پوراکرنے پرجبرنہیں ہوتا۔ت)اورسائل مظہر کہ زیدنے اپنی حیات تك وعدہ وفابھی کیا انتقال عمرو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع