30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ ہبہ بمنزلہ وصیت ہوتاہے جس کااثر یہ کہ بعد موت واہب اس کے ورثہ کوثلث کو کل متروکہ واہب کے لحاظ سے اگرہبہ میں کچھ زیادت ہوئی ہو تو صرف اس مقدار زائد میں اختیار اعتراض ہے زندگی واہب میں یہ اعتراض بھی نہیں پہنچتا کہ ابھی اس مرض کا مرض ہونا ہی معلوم نہیں،کیامعلوم کہ شفاہوجائے تومرض موت نہ رہے کہ مرض موت تو وہ مرض مہلك ہے جس میں موت واقع ہوجائے معہذا حیات مورث میں اس کے ثلث مال کی تعیین بھی ناممکن جس سے خیال کرسکیں کہ یہ ہبہ اس حد کے اندریا اس سے زائدہے،کیامعلوم کہ جو مال اب ہے اس سے زائد اسے کسی وجہ سے اورحاصل ہوجائے کہ جسے اس وقت ثلث سے زائد تصورکرتے ہیں ثلث سے کم رہ جائے،پھرہندہ کامرض مذکور کومرض موت کی اصل جنس ہی سے خارج کہ جو مرض مزمن ہوجائے وہ مرض موت نہیں رہتا اگرچہ اس میں موت واقع ہو۔بالجملہ دعوی زیداصلًا کسی طرح کوئی وجہ صحت نہیں رکھتا۔درمختار کتاب الاقرارمیں ہے:
|
تصرفات المریض نافذۃ وانما تنقض بعد الموت[1]۔ |
مریض کے تصرفات نافذ ہوتے ہیں البتہ موت کے بعدوہ ختم ہوجاتے ہیں(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
لامعتبر باجازتھم فی حال حیاتہ لانھا قبل ثبوت الحق اذالحق یثبت عندالموت[2]۔ |
موصی کی زندگی میں وارثوں کی اجازت معتبرنہیں کیونکہ یہ ثبوت حق سے قبل ہوئی اس لئے کہ وارثوں کاحق تو موت کے وقت ثابت ہوتاہے(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ[3]۔ |
وارث ہونے یانہ ہونے کا اعتبار موت کے وقت ہوتاہے نہ کہ وصیت کے وقت(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
ھبۃ مقعد وفالج ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف |
مقعد،مفلوج اورسِل کے مریض کا ہبہ کاکل مال میں نافذ ہوتاہے جبکہ بیماری سال تك لمبی ہوگئی اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع