30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیاتھا عورت کو ہبہ نہ کیاتھا،وہاں تملیك کاعرف ہے،بلکہ یونہی پہننے کوبنادیتے ہیں۔پس صورت مستفسرہ میں اگرسب بیان واقعی ہیں توزیورساختہ زوج ملك زوج ہے اس میں ورثہ زوجہ کاکچھ حق نہیں اورمتروکہ عورت سے اگراس پرکوئی دین ہو اداکیاجائے اس کے بعد جوباقی بچے اس کا ایك ثلث تعمیرمسجد وغیرہ میں حسب وصیت صَرف کردیں اگرچہ ورثہ راضی نہ ہوں دو ثلث کہ باقی رہے اس کی تقسیم برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین پندرہ سہام میں سے زوج کے تین ماں باپ کے دودو،ہردختر کے چارچار اوربرادر وخواھر کاکچھ نہیں پھرایك ثلث میں وصیت نافذ کرنے کے بعد دوثلث باقی ماندہ سے دونوں بیٹیوں کاحصہ توضرورہے دیاجائے گا کہ بوجہ نابالغی ان کے حق میں وصیت کسی طرح عمل نہیں کرسکتی باقی تینوں وارثوں میں جوشخص وصیت کی اجازت نہ دے اس کاحصہ اسے دیاجائے گا اورجو جائزرکھے اس کاحصہ بھی وصیت کے مطابق صَرف کردیاجائے گا،واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۸: ۱۰جمادی الاولٰی ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی محبوب علی نے اپنی حالت صحت ونفاذ تصرفات میں اپنی جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام بعوض اس کے دین مہرکے منتقل کردی بعدہ محبوب علی کاانتقال ہوا،اب ہندہ نے ایسی حالت میں کہ اسے مرض فالج ہوچکاتھا جسے ایك سال سے زائد گزرا اوراب کوئی حالت اس کی ترقی روزانہ اوراس سے غلبہ خوف ہلاك کی نہ تھی بلکہ مزمن ہوچکاتھا وہ جائداد اپنے شوہر کے بھانجے کو اس کے حسن خدمت کے صلہ میں ہبہ کی اورشرعی اورنیز قانونی تکمیل کردی،ہندہ ہنوززندہ ہے،اب زید کہ محبوب علی کے چچاکی اولاد میں اور اس کاعصبہ ہے اس ہبہ پر فرض ہوتا اور جائداد میں اپنا حصہ بتاتاہے اس صورت میں اس کایہ دعوٰی مسموع اورہبہ مذکورہ باطل ومرفوع ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہبہ مذکورہ تام وکامل اوردعوی زیدنامسموع وباطل،محبوب علی نے جو جائداد اپنی صحت میں اپنی زوجہ کو بعوض دین مہردے دی محبوب علی وورثہ محبوب علی کو اس سے کچھ تعلق نہ رہا،ہندہ اس کی مالك مستقل ہوگئی مالك کو اختیار ہے کہ اپنی صحت میں اپنا مال جسے چاہے دے دے کسی کو اس پراعتراض نہیں پہنچتا،زیداگرچہ بذریعہ وراثت محبوب علی مدعی ہے تووراثت محبوب علی کومال ہندہ سے کیاعلاقہ،اوراگر وہ ہندہ کابھی وارث شرعی اوراس بناپر مدعی ہے تاہم حیات مورث میں دعوی وراثت کیامعنی،ہاں اگرکوئی شخص مرض موت میں اپنا مال کسی کو ہبہ کرے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع