30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اربعۃ اٰلاف درھم علی ماروی عن الامام اویرث عشرۃ الآف درھم علی ماروی عن الفضلی القھستانی عن الظھیریۃ واقتصر الاتقانی علی الاول [1]اھ وفی الدر و للموصٰی الرجوع عنھا بقول صریح او فعل[2] الخ وفی الطحطاوی علی الدرالتجھیز لایدخل السبح و الصمدیۃ والجمع والموائد لان ذٰلك لیس من الامور اللازمۃ[3]الخ۔ |
مستغنی نہ ہونے کی صورت میں وصیت کو ترك کرنا مستحب ہے کیونکہ اس صورت میں ترك وصیت صلہ رحمی اورصدقہ ہےاھ۔ردالمحتارمیں ہے ان کے غنی ہونے کی صورت یہ ہوگی کہ ہرایك ان میں سے چارہزار درہم کا وارث بنے جیسا کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ سے منقول ہے،یادس ہزار درہم کا وارث بنے جیساکہ امام فضلی قہستانی سے بحوالہ ظہیریہ منقول ہے،اتقانی نے قول اول پراقتصارکیااھ۔ در مختارمیں ہے کہ موصی کو وصیت سے رجوع کااختیارہے چاہے صریح قول کے ساتھ رجوع کرے یافعل کے ساتھ الخ۔ درمختارکے حاشیہ طحطاوی میں ہے کہ دعاودرود،ختم قل وچہلم،لوگوں کا اجتماع اورکھانے کااہتمام وغیرہ تجہیزمیں داخل نہیں کیونکہ یہ امورلازمہ میں سے نہیں الخ۔(ت) |
ان سب مسائل مذکورہ کے بعد جو متروکہ ہندہ ٹھہرے بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین واجزائے وصیت برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین اٹھارہ سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم مادراورنودختر اوردودوہربرادر کوملیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مری اس نے اپنی حیات میں وصیت کی کہ میراجوکچھ ہے وہ سب راہ خدا یعنی تعمیرمسجد وغیرہ میں خرچ کیاجائے۔اب ازروئے شرع کے جو حکم ہو وہ کیاجائے اوراس کے وارثوں میں ایك زوج اوردودختر اورماں باپ اورایك برادر اورایك ہمشیرہ اس نے چھوڑی اورزیور ساختہ زوج کا وہ زوج کے پاس ہے کس کا حق قرارپائے گا۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ اُن وارثوں میں دونوں لڑکیاں نابالغہ ہیں اورزیور کہ زوج نے بنایا صرف پہننے کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع