30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باطلۃ لان ھذا للاغنیاء والفقراء جمیعا ولوقال صددرھم از من رواں کنید قال کانت الوصیۃ جائزۃ لان ھذا اللفظ یراد بہ القربۃ۔[1] |
کیونکہ یہ اغنیاء اورفقراء سب کے لئے ہے۔اور اگرکہا"میری طرف سے سَودرہم رواں کردو"تو امام ابوبکر نے کہاکہ وصیت جائزہے،کیونکہ اس لفظ سے قربت مراد ہوتی ہے۔ (ت) |
اورمذہب صحیح اورمفتی بہ میں موصی جس چیز کی مساکین کے لئے وصیت کرے وصی کواختیارہے کہ وہ نہ دے اس کی قیمت تصدق کردے وبالعکس یعنی روپے خیرات کرنے کی وصیت ہوتو چیزخریدکر صدقہ کرسکتاہے۔
|
فیھا عنھا رجل اوصی بان یتصدق عنہ بالف درھم فتصدقوا عنہ بالحنطۃ او علی العکس قال ابن مقاتل یجوز ذٰلك وقال الفقیہ ابواللیث وبہ ناخذ ولو اوصی بان یباع ھذا العبد ویتصدق بثمنہ علی المساکین جازلھم ان یتصدقوا بنفس العبد ولو قال اشتر عشرۃ اثواب وتصدق بھا فاشتری الوصی عشرۃ اثواب لہ ان یبیعھا ویتصدق بثمنھا[2]اھ ملخصًا۔ |
ہندیہ میں خانیہ ہی کے حوالے سے ہے ایك شخص نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے ہزاردرہم صدقہ کئے جائیں توانہوں نے اس کی طرف سے گندم صدقہ کردی یامعاملہ اس کے بر عکس ہوا۔ابن مقاتل نے کہایہ جائزہے۔فقیہ ابواللیث نے کہا ہم اسی سے اخذکرتے ہیں۔اوراگروصیت کی کہ اس کا یہ غلام بیچ دیاجائے اوراس کی قیمت صدقہ کردی جائے تو ان کے لئے جائزہے کہ وہ خود غلام کوصدقہ کردیں۔اوراگرکہادس کپڑے خریدو اوران کوصدقہ کردو۔پھروصی نے دس کپڑے خریدلئے تواسے اختیارہے کہ وہ ان کپڑوں کو بیچ دے اوران کی قیمت صدقہ کردے الخ تلخیص(ت) |
یونہی اس کے کلام سے اس صدقہ کاچندموسم بدفعات اداکرنانکلتاہے اس کااتباع بھی ضرورنہیں وصی کواختیارہے کہ ایك وقت میں سب روپیہ تصدق کردے،
|
فیھا عنھا لوقال اوصیت |
ہندیہ میں خانیہ سے ہی منقول ہے،اگرکہا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع