30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احدالنوعین علی الآخرمستفاد نباشد بہرہرہمہ علی السویہ بخش کنند لعدم الفضل بعدم الفصل پس اگرمثلًا برائے اولاد زیدوصیت کند پسران ودختران ہمہ برابر باشند واگربرائے ورثہ زید پس للذکر مثل حظ الانثیین زیراکہ تعبیر بلفظ ورثہ دلیل است برآنکہ حیثیت وراثت او ملحوظ داشتہ پس ہم بحساب وراثت خواہند یافت وتمامہ فی ردالمحتار[1]من الوصیۃ للاقارب۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اورنہ ہی ایك نوع کی دوسری نوع پرکوئی فضیلت سمجھی جارہی ہے،لہذا ہرایك کوبرابربرابر حصہ دیں گے کیونکہ فرق نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہوگی،لہٰذا مثال کے طورپر اگرزید کی اولاد کے لئے وصیت کرے اس میں بیٹے اور بیٹیاں سب برابرہوں گے،اوراگرزید کے ورثاء کے لئے وصیت کرے اس صورت میں مذکرکاحصہ دو مؤنثوں کے حصہ کے برابرہوگا اس لئے کہ لفظ ورثاء کے ساتھ تعبیر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے وراثت کی حیثیت کو ملحوظ رکھاہے۔چنانچہ وہ وراثت کے حساب سے حصہ پائیں گے۔پوری تفصیل ردالمحتارکے باب الوصیت للاقارب میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۱۵: ازمیرٹھ بازارلال کرتی مرسلہ جناب مولوی محمدعبدالسمیع صاحب ۴/رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ
بخدمت شریف مخدوم ومکرم محقق ومدقق جناب مولانا محمداحمدرضا خاں صاحب ادام اﷲ فیوضہ وبرکاتہ وضاعف اجورہ وحسناتہ،بعد اتحاف ہدیہ سلام مرفوع برائے خورشیدانجلائے باد،اس مسئلہ میں آپ کی رائے دریافت کی جاتی ہے کہ ایك عورت نے وصیت کی تھی کہ ایك شخص کو کہ یہ سوپچاس روپیہ میراہے اس کایہ بندوبست کیجیوکہ جب کوئی موسم کامیوہ چلا کرے میری فاتحہ اس پر دلاکرتقسیم کردیاکرو،وصی نے ایساہی کیا،لیکن ایسابھی کیاکہ اس مال مذکورسے کوئی کتاب دینی غریب طالب علم کو دلوادی،اوریہ بھی کیاکہ دہم وچہلم کی تواریخ معینہ میں مساکین کوکھانا کھلادیا فاتحہ دلاکر،اورایك دوخرچ ایسے کئے کہ اس عورت کے مرنے کی خبرسن کرجودوایك جگہ سے آدمی آئے تھے اوراس عورت کاکوئی ولی نہ تھا جو ان کی مہمانی کرتا،ان کی مہمانی میں بھی روپیہ مذکورہ سے کچھ صرف ہوا،اب یہ سب اخراجات بقیاس قاعدہ نذرکا اس میں تعین زمان و مکان ومال وانفاق کی قید پرنظررکھناواجب نہیں ہے جائزہوئی یانہیں۔وصی نے ان سب کومصرف خیرسمجھ کو صرف کردیاکہ مقصود فاتحہ میوہ جات سے ایصال ثواب ہے ایصال ثواب ہوگیا اب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع