30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس نے مرحومہ کے امرسے خرچ کی اوراس نے رجوع کی تصریح کی تویہ متبرع نہ ہوا۔ت)اسی طرح جوکچھ کفن ودفن بطریق سنت میں صرف کیا ہو وہ بھی اس کادین ہے بشرطیکہ امیربیگم کے حال کے مناسب عرف وعادت کے لحاظ سے جس قیمت کا کفن دینا چاہئے تھا اس سے بیش قیمت نہ دیا ہو ورنہ قیمت کفن اصلًا مجرانہ پائے گا۔تنویرالابصارودرمختاروردالمحتارمیں ہے:
|
لوزاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ ای الا اذا اوصی بھا وکانت تخرج من الثلث وفی القٰیمۃ وقع الشراء لہ(لانہ متعد فی الزیادۃ وھی غیر متمیزۃ فیکون متبرعا بتکفین المیت بہ رحمتی[1])۔ |
اگروصی نے میت کے مثلی کفن میں زیادتی کی باعتبار تعداد کے توزائد کاضامن ہوگا(مگرجب اس کو اس کی وصیت کی گئی ہو اور وہ مال کے ایك تہائی سے پوری ہوسکتی ہو)اوراگرباعتبار قیمت کے زیادتی کی تویہ خریداری وصی کے لئے واقع ہوگی(کیونکہ اس نے قیمت کی زیادتی میں تعدی کی اور وہ زیادتی ممتازنہیں لہذا وہ میت کے لئے کفن کی خریداری میں متبرع ہوگا۔رحمتی)(ت) |
اسی طرح جوکچھ کفن دفن کے سوافاتحہ،درودوسوم،چہلم،عورتوں کے جمع ہونے،ان کے پان چھالیہ کھانے پینے وغیرہ معمولی باتوں میں صرف ہوا اس کابھی ایك حبہ مجرانہ ملے گا لوجوہ کثیرۃ وحسبک(متعدد وجوہات کی وجہ سے اورتجھے اتناہی کافی ہے کہ۔ت)قول امیربیگم "بعدانتقال کے جوکچھ خرچ ہو"وصیۃ مھملۃ باطلۃ لانفاذ لھا اصلا(وصیت مہمل وباطل ہے جس کابالکل نفاذ نہیں۔ت)
علامہ سائحانی مسئلہ تنویرالابصار وغیرہ اوصی بان یتخذ الطعام بعد موتہ للناس ثلٰثۃ ایام فالوصیّۃ باطلۃ[2] (کسی نے وصیت کی کہ اس کے مرنے کے بعد تین دن لوگوں کے لئے کھانا تیار کیاجائے تو یہ وصیت باطل ہے۔ت)کی تعلیل میں لکھتے ہیں:
|
انھا وصیۃ للناس وھم لایحصون کما لوقال اوصیت للمسلمین ولیس فی اللفظ مایدل علی الحاجۃ فوقعت تملیکا من مجھول |
کیونکہ یہ وصیت لوگوں کے لئے ہے جن کاشمار نہیں ہوسکتا جیساکہ اگروہ کہے کہ میں نے مسلمانوں کے لئے وصیت کی ہے درانحالیکہ لفظوں میں ایسی کوئی چیزنہیں جوحاجت پر دلالت کرے تویہ مجہول |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع