30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فما ھلك فی یدھا فعلیھا ھلک،ھذا کلہ من اولہ الٰی اٰخرہ مما افیض علی قلب الفقیر من فیض القدیر واخذتہ تفقھا من کلمات العلماء،اعظم اﷲ اجورھم یوم الجزاء فما اصبت فمن اﷲ تعالٰی ولہ الحمدعلیہ ومااخطأت فمن قصور نفسی وانا اتوب الیہ اتقن ھذہ اتقانا کبیرا فان المسائل مما تمس الیہ الحاجۃ کثیرا،فاغتنم ھذا التفصیل الجمیل والحمدﷲ علی فیضہ الجلیل،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اس کامالك ہوگیا۔اب جودلہن کے ہاتھ میں ہلاك ہوا توا سی کے ضمان پرہلاك ہوا۔یہ سب کچھ رب قدیر کے فیض سے فقیرکے دل میں ڈالاگیا۔میں نے اس کوبطور تفقہ علماء کرام کے اقوال سے اخذ کیا۔اﷲ تعالٰی قیامت کے روزان کوعظیم اجرعطافرمائے۔جوکچھ میں نے درست کہا اس پراﷲ تعالٰی ہی کے لئے حمد ہے اورجومیں نے غلطی کی تو وہ میراپنا قصور ہے۔میں اسی کی طرف رجوع کرتاہوں۔وہ اس کوبہت مضبوط بنائے۔اس لئے کہ ان مسائل کی ضرورت زیادہ واقع ہوتی ہے،اس خوبصورت تفصیل کوغنیمت سمجھو،اوراﷲ تعالٰی کے فیض جلیل پرتمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۱۳: ازشہرکہنہ ۷ربیع الثانی ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مجیداﷲ خاں ولد کالے خاں ساکن شہرکہنہ نے اپنی جائداد موروثی دین مہرمیں زوجہ کو دی یعنی مسماۃ امیربیگم کوبعدہ مجیداﷲ خاں مذکور کاانتقال ہوگیا بعدازاں جائدادمرقومہ بالاکا داخل مسماۃ امیربیگم کے نام بذریعہ گواہان کے ہوا یہ شخص گواہ تھے عنایت اﷲ خاں صاحب ولدکالے خاں صاحب،دیگرگواہ شفیع علی خان صاحب ولد کالے خان صاحب،مجیداﷲ خاں مرقومہ بالاکی ایك لڑکی تھی امیربیگم،والدہ دخترنے اس کی شادی کردی، چند عرصہ کے بعد نصف جائداد جوبذریعہ مہرکے شوہر اپنے سے پہنچی تھی دخترمذکورہ کودے دی اوراس کا داخل خارج بھی کردیا بگواہی عنایت اﷲ خاں صاحب وشفیع علی خاں صاحب اور پٹی بانٹ اس وجہ سے نہیں ہوسکا کہ اس زمین میں جگہ جگہ غار تھے، دوسرے یہ کہ والدہ اوردختر میں اتفاق بھی بہت تھا حتی کہ تاحیات دخترسے جدانہیں ہوئی،بعدہ مسماۃ امیربیگم کی حیات میں دخترجس کے نام نصف جائداد کی تھی فوت ہوگئی مگرمسماۃ امیربیگم نے وہ جائداد واپس نہیں لی اس پرقابض اوردخیل داماد رہا اور ہے اورجس وقت امیربیگم کی علالت تھی اس وقت میں دامادمذکور سے وصیت کی کہ برخوردار من میری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع