30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یشترط فی صحۃ ھبۃ المشاع الذی لایحتملھا ان یکون قدرا معلوما حتی لووھب نصیبہ من عبد ولم یعلمہ بہ لم یجز[1]۔ |
ناقابل تقسیم چیز کے غیرمنقسم طورپرہبہ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کی مقدار معلوم ہو یہاں تك کہ اگرکوئی غلام میں اپنے حصہ کو ہبہ کردے حالانکہ اسے اپناحصہ معلوم نہیں تویہ جائزنہیں(ت) |
محیط امام سرخسی میں ہے:
|
واذا علم الموھوب لہ نصیب الواھب ینبغی ان تجوز عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی [2] نقلھما فی الفتاوی الھندیۃ۔ |
جب موہوب لہ کوواھب کے حصہ کاعلم ہوتو امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیك اس کوجائز ہوناچاہئے۔ان دونوں کوفتاوٰی ہندیہ میں نقل کیاہے۔(ت) |
جامع الفصولین میں فتاوٰی امام فضلی سے ہے:
|
اذا ھلك افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذ الفاسدۃ مضمونۃ علی مامر۔[3] |
اگروہ ہلاك ہوجائے تو میں ذی رحم محرم کوہبہ فاسدہ کرنے والے کی طرف رجوع کافتوٰی دوں گا کیونکہ ہبہ فاسدہ کی صورت میں ضمان آتا ہے جیساکہ گزرگیا(ت) |
اور اگر دلہن کومعلوم تھا تواس قدرمیں ہبہ صحیح ونافذ وتام ولازم ہوگیا اوران اشیاء میں دلہن اپنے اوربکردونوں کے حصص کی مالك ہوگئی باقی ورثہ کے حصے بدستور دست عروس میں حکم ضمان پر ہیں جن کاحکم بارہاگزرا اوراول سے آخر تك سب صورتوں میں جو مشترك چیزیں دلہن کے ہاتھ میں تلف ہوئیں ان میں دلہن اپنے حصے کاتاوان کسی سے نہیں لے سکتی کہ اسکامال اسی کے ہاتھ میں ہلاك ہوا اوربکرنے اس کے حصے پرکوئی تعدی نہ کی۔
|
فانہ انما سلم الملك لید من ملك |
کیونکہ اس نے توایسے کے ہاتھ میں دے دیا جو |
[1] الفتاوی الہندیۃ کتاب الہبۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸،بحرالرائق کتاب الہبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۸۶
[2] الفتاوی الہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الہبہ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸
[3] جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدۃ الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع