30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یملکہ کذا فی المنتقی وظاھرہ ان من اخذہ ولم یبلغہ مقالۃ الواھب لایکون لہ کما لا یخفی[1] اھ،اقول:ومثلہ مافی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل سیّب دابتہ فاصلحھا انسان ثم جاء صاحبھا واراد أخذھا واقر وقال قلت حین خلیت سبیلھا من اخذ فھی لہ او انکرفاقیمت علیہ البینۃ او استحلف فنکل فھی للاٰخذ سواء کان حاضرا سمع ھذہ المقالۃ اوغاب فبلغہ الخبر[2] اھ ووجہہ ظاھرفانہ اذا علم بمقالۃ الواھب فیکون الاخذ علی جھۃ الاتھاب ویقوم القبض مقام القبول بخلاف ما اذالم یعلم فانہ لم یتحقق القبول قطعًا و ھو مدار ثبوت الملك للموھوب لہ قطعًا سواء جعل رکنا کما نص علیہ فی التحفۃ والولوالجیۃ |
منتقی میں ہے۔اس سے ظاہریہ ہے کہ جس شخص تك واھب کی یہ بات نہیں پہنچی اس نے جوکچھ لیاوہ اس کامالك نہ ہوگا الخ،میں کہتاہوں اوراس کی مثل خلاصہ کے حوالے سے ہندیہ میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے چارپائے کوچھوڑدیا اور کسی انسان نے اس کو پکڑ کر سنبھال لیا پھراس چارپائے کا مالك آیا جو اس کولیناچاہتاتھا۔اس نے اقرارکیاکہ میں نے اس کو چھوڑتے وقت کہاتھا کہ جوا س کو پکڑلے یہ اسی کاہے یا اس نے انکارکیامگرگواہوں سے یہ بات ثابت ہوگئی یا اس کو قسم کھانے کاکہاگیا اوراس نے انکارکردیا۔ان تمام صورتوں میں وہ چارپایہ پکڑنے والے کاہوگا چاہے وہ خود حاضرتھا وراس نے مالك کی یہ بات سنی تھی یاغائب تھا اوراس تك اس کی خبر پہنچی اھ۔اس کی وجہ ظاہرہے کیونکہ جب اس کو واھب کے اس قول کاعلم ہوگیا تو اس کالینا ہبہ کولینے کے طورپرہوا اورقبضہ کرنا قبول کے قائم مقام ہوگا بخلاف اس کے کہ جب اسے واہب کے اس قول کاعلم نہ ہواہو،کیونکہ اس صورت میں قبول کرنا بالکل متحقق نہیں حالانکہ موہوب لہ کے لئے ملك کے ثبوت کادارومدار قطعی طورپر قبول کرنے پرہے۔چاہے قبول کورکن |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع