30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں تھے کہ بکرنے جہیز بطورہبہ نہ دیاہواوربیشك اس امرمیں کہ ہبہ کی نیت تھی یامجرائی کی،بکرکاقول قسم کے ساتھ معتبرہوگا،
|
لانہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع کما فی الاشباہ وجامع الفصولین و الفتاوی الخیریۃ وغیر ماکتاب وقد نصوا علیہ فی مسائل کثیرۃ،اقول:ولیس فی تجھیز الاخوۃ الاخوات اذاکن ذوات مال شریکات فی مابایدی الاخوۃ من الترکۃ عرف فاش یقضی بالھبۃ بخلاف الاٰباء والامھات فی بلادنا وکیف ویکون الظاھر قصد التبرع مع بقاء الواجب بل الظاھر ح انھم یریدون الاحتساب علیھن من انصبائھن۔ |
کیونکہ وہ دینے والاہے لہٰذا وہ دینے کی جہت کوزیادہ بہتر جانتاہے جیساکہ اشباہ،جامع الفصولین اورفتاوٰی خیریہ وغیرہ کتابوں میں ہے،اورعلماء نے اس پرمتعددمسائل میں نص فرمائی ہے۔میں کہتاہوں بھائی جب بہنوں کے لئے جہیز بنائیں جبکہ وہ بہنیں مالدارہوں اوربھائیوں کے زیرقبضہ ترکہ میں شریك ہوں تو ایساکوئی عرف ہمارے شہروں میں جاری وساری نہیں جو اس کو ہبہ قراردے بخلاف ماں باپ کے۔تو واجب کے باقی رہتے ہوئے اس کاقصد تبرع ہوناکیسے ظاہرہوگا بلکہ ظاہریہاں یہ ہے کہ بھائی اس کو بہنوں کے حصوں میں سے شمار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔(ت) |
اسی طرح اگربکرنے دل میں نیت ہبہ کی مگردلہن نے ہبہ جان کرقبضہ نہ کیا بلکہ مثلًا اپنے حصہ کا معاوضہ یاحصے میں مجرائی سمجھ لیا توبھی بعینہ یہی احکام ہوں گے کہ اس صورت میں دلہن کی طرف سے قبول ہبہ نہ پایاگیا،
|
فان القبول فرع العلم وھی اذالم تحسبہ ھبۃ کیف یتصور انھا قبلت الھبۃ۔ |
اس لئے کہ قبول فرع ہے علم کی۔جب اس خاتون نے اس کو ہبہ سمجھاہی نہیں تو اس کاہبہ کوقبول کرناکیسے متصورہوگا(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
وکذا بقولہ اذنت الناس جمیعا فی ثمر نخلی،من اخذ شیئا فھو لہ فبلغ الناس،من اخذ شیئا |
یونہی اس کایہ کہناکہ میں نے اپنے درختوں کے پھل کے بارے میں تمام لوگوں کواجازت دے دی ہے تولوگوں کو خبر پہنچ گئی جس نے جوکچھ لے لیاہے وہ اسی کاہے ایساہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع