30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قیمۃ معلومۃ لاتختلف ففتح البائع الدکان وجلوسہ للبیع واعدادہ الخبز لذٰلك دلیل علی البیع واخذ المشتری علی الشراء امّا ھٰھنا فان فرضت دلالۃ من بکر فلادلالۃ اصلا من قبل العروس ولئن سلمت الرضا فالتعاطی ھٰھنا من احد الجانبین وھو وان جاز عندالبعض وبہ یفتی وھوارجع التصحیحین فلابد فیہ عند مجیزہ من بیان البدل والبدل ھٰھنا کما علمت مجھول فلم ینعقد البیع اجماعا۔ |
کوئی اختلاف نہ ہوتو بائع کادُکان کھول کربیع کے لئے بیٹھنا اور روٹی تیارکرنا بیع کی دلیل ہے اورمشتری کااس کو لے لینا خریداری کی دلیل ہے۔مگر یہاں زیربحث مسئلہ میں اگر بکر کی طرف سے دلالت فرض کربھی لی جائے تو دلہن کی طرف سے بالکل دلالت موجودنہیں۔اگراس کی رضامندی کو تسلیم کرلیاجائے تویہاں تعاطی صرف ایك طرف سے ہے۔وہ اگرچہ بعض کے نزدیك جائزہے،اسی کے ساتھ فتوٰی دیا جاتا ہے اوردونوں تصحیحوں میں سے یہ زیادہ راجح ہے۔لیکن اس کوجائز قراردینے والے کے نزدیك بدل کابیان ضروری ہے اوریہاں جیسے کہ تُوجانتاہے بدل مجہول ہے لہٰذا بالاجماع بیع منعقدنہ ہوئی۔(ت) |
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحلوانی کذا فی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ وفی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احدھما کان لنص محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع ھکذا حکی فتوی |
شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك بیع تعاطی میں شرط دونوں طرفوں سے دیناہے،کفایہ میں یونہی ہے اوراسی پراکثر مشائخ ہیں،بزازیہ میں ہے کہ یہی مختارہے،ایساہی بحرالرائق میں ہے۔اورصحیح یہ ہے کہ اگرایك قبضہ کرے توکافی ہے کیونکہ امام محمدعلیہ الرحمہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی دومیں سے ایك بدل پر قبضہ کرلینے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ثمن اور مبیع دونوں کوشامل ہے جیساکہ النہرالفائق میں ہے اور یہ قائل شرط قراردیتاہے اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے ثمن کے بیان کرنے اورمبیع کے سونپنے کو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع