30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہایہ میں ہے:
|
جھالۃ تفضی الی المنازعۃ تمنع جواز الصلح[1]اھ ملخصین۔ |
ایسی جہالت جوجھگڑے کاباعث ہو وہ جوازصلح سے رکاوٹ ہےاھ تلخیص(ت) |
رہی بیع وہ اگربتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلًا بکرکہتا میں نے یہ جہیزبعوض ان اشیائے متروکہ کے جوبمقدار مالیت جہیز تیرے حصہ میں آئیں بیع کیا اوردُلہن قبول کرتی تاہم فاسد ہوتی کہ نہ جہیزکی لاگت بیان میں آئی نہ یہ معلوم کہ اس کی مالیت کی کتنی چیزیں اورکیاکیا اشیاء حصہ عروس میں آئیں گی یہاں تك کہ اس قدربھی نہ ہوابلکہ کوئی تذکرہ درمیان نہ آیا صرف بکرنے ایك امرسمجھ کرجہیزسپردکیایہ بھی خبرنہیں کہ اس وقت قلب عروس میں کیانیت تھی اسے کیونکر کوئی عقد شرعی قراردے سکتے ہیں۔
|
ومعلوم انہ لیس من عقد یتم بالنیۃ بل لابد من شیئ یظھر القصد القلبی ویکون دلیلا علی الرضاء النفسی۔ |
اوریہ بات معلوم ہے کہ کوئی عقد محض نیت سے تام نہیں ہوتابلکہ اس کے لئے کسی ایسی چیز کا ہوناناگزیرہے جس سے دلی ارادہ ظاہرہو اور وہ دلی طورپر رضامندی کی دلیل ہو۔(ت) |
فتح القدیرمیں ہے:
|
رکنہ الفعل الدال علی الرضا بتبادل الملکین من قول اوفعل[2] اھ نعم المظھر قدیکون نصا وھو اللفظ المقرر للایجاب والقبول وقد یکون دلالۃ کالمساومۃ و اخذ الثمن بعد بیان الثمن فی بیع التعاطی وحیث لا حاجۃ الی البیان للعرف العام کالخبز مثلا حیث یکون لہ |
اس کارکن ایسافعل ہے جودونوں ملکوں کے باہمی تبادلہ پر رضامندی کی دلیل ہوچاہے قول سے یافعل سےاھ،ہاں اس کوظاہر کرنے والی چیزکبھی نص ہوتی ہے جیسے وہ لفظ جوایجاب وقبول کے لئے مقررہیں اورکبھی دلالت ہوتی ہے جیسے بھاؤتاؤ طے کرنااور دستی لین دین کی بیع میں ثمن بیان کرنے کے بعد اس کولے لینا،اورجہاں عرف عام کی وجہ سے بیان کی حاجت نہ ہو مثلاروٹی کی قیمت جب معلوم ہو اس میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع