30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصارف شادی:عبارت سوال میں مذکورکہ دونوں قاصرہ وقت شادی جوان تھیں اورسائل نے بعد استفسار بذریعہ تحریراظہار کیاکہ مصارف عروسی وجہیز عروس سب بکرنے محض اپنی رائے سے کئے والدہ کاانتقال دونوں قاصرہ کی شادی سے پہلے ہوا اوربہنیں ان کی شادیوں میں عام بیگانوں کی طرح شریك ہوئیں،نہ ان سے دربارہ صرف کوئی استفسارہواتھا نہ ان کا کوئی اذن تھا نہ ان قاصرات سے کہاگیاکہ ہم یہ صرف تمہارے حصہ سے کرتے یایہ جہیز تمہارے حصہ میں دیتے ہیں اورواقعی ہمارے بلاد میں مصارف شادی کنواریوں سے پوچھ کرنہیں ہوتے نہ ان سے اس امرمیں کوئی اذن لیاجاتاہے پس اگربیان مذکورصحیح ہے تو جو کچھ مصارف بالائی جس قاصرہ کی شادی میں ہوئے وہ دلہن کے حصہ میں مجرانہیں ہوسکتے۔
|
لانا وان قلنا بوصایۃ بکردلالۃ کما اشرنا الیہ فقد انقطعت الولایۃ بالبلوغ۔ |
اس لئے اگرچہ ہم بطوردلالت بکر کے وصی ہونے کا قول کر چکے ہیں جیساکہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیاہے مگر وہ ولایت بالغوں کے بلوغ سے منقطع ہوگئی۔(ت) |
ردالمحتارمیں عنایہ سے ہے:
|
انھم(یعنی الورثۃ الکبار)اذا کانوا حضورا لیس للوصی التصرف فی الترکۃ اصلا الا اذاکان علی المیت دین [1]الخ۔ |
جب بڑے ورثاء حاضرہوں تو وصی کوترکہ میں تصرف کابالکل اختیارنہیں مگرجب میت پر قرض ہو الخ۔(ت) |
توان مصارف میں جوکچھ بکرنے صرف کیابہنوں کے ساتھ تبرع واحسان ہوا جسے کسی سے مجرانہ پائے گا سب صرف اسی کے حصے پرپڑے گا خواہ ضمنًا خواہ قصاصًا،دوسرے ورثہ جنہوں نے نہ خود صرف کیا نہ صراحۃً اذن دیایہ بری رہیں گے اگرچہ انہوں نے صرف ہوتے دیکھا وہ خاموش رہے ہوں اذلاینسب الی ساکت قول(چُپ رہنے والے کی طرف قول کو منسوب نہیں کیا جاتا۔ت)اشباہ میں ہے:
|
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذنا |
اگرکسی نے غیرکو اپنا مال تلف کرتے دیکھا اورچُپ رہاتویہ تلف کرنے کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع