30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المولی سبحٰنہ وتعالٰی فی کتاب الوصایا من العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ ان الابن الکبیر فی امصارنا ھذہ فی اعصارنا ھذہ یقوم مقام وصی ابیہ علی الاولاد الصغار من دون حاجۃ الٰی تصریح بالوصایۃ لوجود الاذن والتفویض دلالۃ بحکم العرف الفاشی المطرد مع تحقق الضرورۃ الملجئۃ الٰی اعتبار تلك الدلالۃ،واﷲ یعلم المفسد من المصلح ومن لم یعرف اھل زمانہ ولم یراع فی الفتیا حال مکانہ فھو جاھل مبطل فی قولہ وبیانہ،وقدبیّنا المسئلۃ بحول القدیر جل مجدہ بما یتعین المراجعۃ الیہ وحینئذ فالامراظھر۔ |
سے فتاوٰی رضویہ کی کتاب الوصایا میں بلندپایہ تحقیق سے ثابت کیاہے کہ ہمارے شہروں میں ہمارے اس زمانے میں بڑا بیٹانابالغ اولادپر باپ کے وصی کے قام مقام ہوتاہے باوجویکہ اس کے وصی ہونے کی تصریح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اس کے لئے اذن وتفویض بطوردلالت موجودہوتی ہے اس عرف کے حکم سے جوجاری وساری ہے۔علاوہ ازیں وہ ضرورت بھی متحقق ہے جودلالت مذکورہ کااعتبارکرنے پر مجبورکرتی ہے۔اوراﷲ تعالٰی جانتاہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔جواپنے اہل زمانہ کونہیں پہچانتااورفتوٰی میں اس کے مکان کو ملحوظ نہیں رکھتا وہ جاہل ہے اوراس کا قول وبیان باطل ہے،ہم نے اﷲ تعالٰی قدرت والے کی عطاکردہ قوت سے مسئلہ کو اس قدر وضاحت کے ساتھ بیان کردیاہے کہ اس کی طرف رجوع کرنا متعین ہوگیا۔اب معاملہ زیادہ ظاہرہے۔(ت) |
اورنفقہ مثل کے یہ معنی کہ اتنی مدت میں ایسے بچوں پراتنے مال والوں میں متوسط صرف بے تنگی واسراف کس قدرہوتاہے اُتنا مجراپائے گا۔عالمگیری میں ہے:
|
نفقۃ المثل مایکون بین الاسراف والتقتیر کذا فی المحیط۔[1] |
مثلی نفقہ وہ ہے جو فضول خرچی اورضرورت سے کمی کرنے کے درمیان ہو۔محیط میں یونہی ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ماینفق علی مثلھم فی تلك المدۃ[2] |
جوخرچ کیاجاتاہے ان کی مثل پر اس مدت میں(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع