30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یفسدہ افتی القاضی الدبوسی بان تصرفہ جائز للضرورۃ قال قاضی خان وھذا استحسان وبہ یفتی[1] |
کرے۔قاضی دبوسی نے فتوی دیاہے کہ بوجہ ضرورت اس کا تصرف جائزہے۔قاضی خاں نے کہایہ استحسان ہے اوراسی پرفتوٰی دیاجاتاہے(ت) |
فصول عمادی پھرجامع الرموز پھردرمختارمیں ہے:
|
لغیرالوصی التصرف لخوف متغلب وعلیہ الفتوی[2]۔ |
غلبہ خوف کے وقت غیروصی کے لئے تصرف جائزہے اوراسی پرفتوٰی ہے۔(ت) |
درمنتقی پھرردالمحتارمیں ہے:
|
انما لم یحصر التصرف فی الوصی اشارۃ الی جواز تصرف غیرہ کما اذاخاف من القاضی علی مالہ ای مال الصغیر فانہ یجوز لواحد من اھل السکۃ ان یتصرف فیہ ضرورۃ استحسانا وعلیہ الفتوی[3]اھ اقول:فاذا جاز التصرف لو احد من الجیران لمکان الضرورۃ مع وجود القاضی من دون اذن مورث و لاقاضی اصلا فلان یجوز للشقیق الشفیق عند عدم القاضی الشرعی مع تحقق اذن المورث دلالۃ لکان احری واجدر واجدی واولٰی۔ |
تصرف کووصی میں منحصرنہ کرنے میں اشارہ ہے کہ وصی کے غیرکاتصرف بھی جائزہے جیسے قاضی کی طرف سے نابالغ یتیم کے مال پر خوف ہوتو گلی والوں میں سے کسی کو اس کے مال میں بوجہ ضرورت تصرف کرنا بطوراستحسان جائزہے۔ اوراسی پرفتوٰی ہےاھ میں کہتاہوں جب بوجہ ضرورت مورث اورقاضی کی اجازت کے بغیر ایك پڑوسی کوتصرف کی اجازت ہے باوجودیکہ قاضی موجودہے توشفیق بھائی کے لئے قاضی کی عدم موجودگی میں تصرف کاجائزہونااولٰی وانسب ہے،جبکہ مورث کی طرف سے بطوردلالت اجازت بھی متحقق ہے۔(ت) |
غرض فقیربحول القدیر جزم کرتاہے کہ ایسی صورت میں ابن کبیر کی صحت تصرف وثبوت وصیانت بحکم دلالت میں کوئی محل شبہ نہیں۔
|
واﷲ یعلم المفسد من المصلح، |
اوراﷲ تعالٰی جانتاہے بگاڑنے والے کوسنوارنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع