30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لعدم تیسرالرجوع الی القاضی فی الطریق فالاخ الماذون لہ دلالۃ مع انعدام القاضی الشرعی اصلا اولٰیعــــــہ۔ |
میں کہتاہوں جب راستے میں قاضی کی طرف رجوع میسرنہ ہونے کی صورت میں ایك ہمسفر کو تصرف کی اجازت ہے تو بھائی جوکہ دلالۃً ماذون ہے اورقاضی شرع بھی بالکل معدوم ہے تو اس کو بطریق اولٰی تصرف کی اجازت ہوگی۔(ت) |
فتاوٰی کبرٰی پھرفتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
اذا تصرف واحد من اھل السکۃ فی مال الیتیم من البیع والشراء ولاوصی للمیت وھو یعلم ان الامر لورفع الی القاضی حتی ینصب وصیا وانہ یاخذ المال |
گلی والوں میں سے کسی نے یتیم کے مال میں بیع وشراء وغیرہ تصرف کیاجبکہ میت کاکوئی وصی نہیں اوروہ محلہ دار شخص جانتا ہے کہ اگرمعاملہ قاضی کے پاس لیجایاجائے تووہ متولی مقرر کر دے گا،تو وہ اس کامال لے اورخرچ |
|
عــــــہ:لکن فی وصایا الانقروی ص۴۱۸ مانصہ وعن محمد فیمن مات عن ابنین صغیروکبیر وترك الفافانفق الکبیر علی الصغیر خسمائۃ وھو لیس بوصی قال ھو متطوع فی ذٰلك وان کان ترك طعاما اوثوبا فاطعمہ والبسہ الکبیر لایضمن الکبیر استحسانا من وصایا البزازیۃ قبیل نوع فی تصرف المریض [1]اھ قلت الجواب ان ھذا ھو حکم الاصل وکلامنا فی الضرورۃ کما تری فافھم۱۲منہ۔ |
لیکن انقروی کے وصایا ص۴۱۸ میں ہے جس کی عبارت یہ ہے:امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ ایك شخص دوبیٹے ایك بڑا اورایك چھوٹا چھوڑکرفوت ہوا اورہزارترکہ چھوڑا،توبڑے نے چھوٹے پرپانچ سو خرچ کردیا حالانکہ وہ وصی نہ تھا،توامام محمد نے فرمایایہ پانسوبڑے کی طرف سے تطوع شمارہوگا اوراگرمرنے والے نے غلہ اورکپڑے ترکہ چھوڑا اوربڑے نے چھوٹے کو وہ غلہ طعام میں اورکپڑے لباس میں دئیے توبڑاضامن نہ ہوگا یہ حکم استحسان ہے،بحوالہ مریض کے تصرف کی نوع سے تھوڑا پہلے (بزازیہ کی بحث وصایا) الجواب: میں کہتاہوں کہ یہ اصل حکم ہے جبکہ ہمارا کلام ضرورت میں ہے جیساکہ دیکھ رہے ہو،سمجھو ۱۲منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع