30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انہ کان یجوز تصرف ھذا الرجل [1]اھ اقول:جواز تصرفہ من دون وصایتہ بناء علی علمہ ان لورفع الی القاضی لنصبہ لیس الا اعتمادًا علی صلاحیۃ الا ذن عند القاضی مع عدم تحقق الاذن اصلا فالاعتماد علی اذن نفس المورث الواقع المتحقق دلالۃ بحکم العادۃ الفاشیۃ المطردۃ و مقاصد الناس المعروفۃ المعھودۃ اولی واجدر۔ |
شخص کاتصرف جائزہے اھ میں کہتاہوں وصی کے بغیر اس کے تصرف کاجواز اس بنیاد پر ہے کہ وہ جانتاہے کہ معاملہ قاضی کے پاس لیجایاجائے تو وہ اس کو متولی مقررکردے گا یہ محض قاضی کے پاس صلاحیت اذن پربھروسہ کرتے ہوئے ہے باوجودیکہ وہاں بالکل متحقق نہیں،توپھر خودمورث کے اذن پربھروساکرنا جوکہ دلالۃً واقع ومتحقق ہے،اس عادت کے حکم سے جولوگوں میں جاری وساری ہے اور ان مقاصدکے حکم سے جو لوگوں میں مشہورومعروف میں اولٰی اورزیادہ لائق ہے۔(ت) |
اوربلاشبہہ قطعًا معلوم کہ جولوگ مال واولاد صغار وکباررکھتے ہیں عام حالت دیکھ کر خوب سمجھتے ہیں کہ یوں ہی ہمارے بعد بھی ولدکبیر تعہد جائداد وپرورش اولاد میں ہماراقائم مقام ہوگا بلکہ اس امر کی آرزوتمنا رکھتے ہیں اوریقینا اس پرراضی ہوتے ہیں اگران سے کہاجائے تمہارے بعد تمہاری جائداد اورچھوٹے چھوٹے بچے ان کے شقیق وشفیق یعنی تمہارے بیٹے سے چھین کرایك اجنبی کوسپردکردئیے جائیں جسے نہ مال کا درد ہو نہ بچوں پرترس توہرگزہرگز اس امر کو قبول نہ کریں گے توعرفًاودلالۃً اذن وتفویض متحقق اور بیشك اگرنظرفقہی سے کام لیجئے تواس وصایت معروفہ کومعتبر رکھنے کی شدیدضرورت ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور اس کے ابطال میں مقاصد شرع کابالکل خلاف بلکہ عکس مرادوقلب مقصود۔
|
وذٰلك لان عامۃ الناس فی بلادنا یموتون من دون تصریح بایصاء ویخلفون اموالا وعقارا واولاد صغارا لاجدلھم وربما تکون فیھم بنات قاصرات فلولم تعتبرالوصایا المعھودۃ التی یعلم کل احد |
اور یہ اس لئے ہے کہ ہمارے شہروں میں لوگ صراحتًا وصیت کئے بغیر فوت ہوجاتے ہیں جو اپنے پیچھے مال، جائداداورچھوٹی ناسمجھ اولاد چھوڑجاتے ہیں انکادادا نہ ہو جن میں بسا اوقات ناتواں بچیاں بھی ہوتی ہیں۔اگریہ معروف وصیت معتبرنہ ہو جس کے بارے میں ہرکوئی جانتاہے جب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع