30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۱۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کسی قدرروپیہ اپنے برادرحقیقی عمروکے پاس کسی مقام سے حالت صحت خود مرض الموت میں بطور امانت بھیجا اوربذریعہ خطوط واسطے نگہداشت امانت کے اکثر تاکیدکودم واپسیں تك کام فرمایا اوردوایك خط میں عمرواوربکر برادرزادے اپنے کو یہ بھی لکھاکہ تم دونوں اس روپیہ کو آپس میں تقسیم کرلینا اوراسی طرح حفظ امانت کی تاکید کی۔اب زیدنے انتقال کیااور سواعمرو کے کوئی وارث اس کانہیں پس عندالشرع زرامانت کس طرح تقسیم کیاجائے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ وصیت بکروعمرودونوں موصی لہما کے حق میں صحیح ہوگئی۔
|
فی الدر عن ابن الکمال والولوالجیۃ لواوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اٰخر تصح الوصیۃ[1]الخ۔ |
درمیں کمال اور ولوالجیہ کے حوالہ سے منقول ہے اگرکسی نے اپنی بیوی کے لئے وصیت کی یابیوی نے اپنے شوہرکے لئے، اور کوئی دوسرا وارث موجودنہیں تو وصیت صحیح ہے الخ(ت) |
پس اگرنصف اس زرامانت کاکل متروکہ زید کے بعدادا باقی رہا ہو ثلث سے زائدنہیں یازائد ہے مگرعمرو اس زیادت کوحق بکر میں جائزرکھتاہے تو وہ زرامانت عمروبکر میں بالمناصفہ تقسیم ہوجائے گا ورنہ اس روپیہ سے بقدرثلث متروکہ مذکورہ کے بکرکودیاجائے۔باقی ماندہ سب عمروکا ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۱: ۲۵/ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے جائداد اورچنداولاد نابالغ اورایك پسرجوان لائق نیك اطوارچھوڑا جس نے بعد پدر اپنے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کومثل اپنے بچوں کے پرورش کیا اور ان کے مال کی نگہداشت اوران کی غوروپرداخت میں بجان ودل مصروف رہا مگرزیدنے اپنے بچوں یاان کے مال کی نسبت کسی کووصیت نہ کی تھی اس صورت میں ہمارے بلاد میں ابن کبیران نابالغوں کے اموال میں دیانت وامانت کے ساتھ تصرفات جائزہ وشرعیہ کااختیار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع