30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں جو معنی خوف موت کے علماء نے قراردئیے ہیں ہرگزموجود نہ تھے کہ مرض پہلے سے بہت کم تھا اوراپنے حوائج کے لئے آناجاناچلنا پھرنا سفرکرناعلاوہ۔
|
فی ردّالمحتار عن الاسمٰعیلیۃ،من بہ بعض مرض یشتکی منہ وفی کثیر من الاوقات یخرج الی السوق و یقضی مصالحہ لایکون بہ مریضا مرض الموت و تعتبر تبرعاتہ من مالہ واذا باع لوارثہ اووھبہ لا یتوقف علی اجازۃ باقی الورثۃ[1]، وفی العقود الدریۃ، سئل فی مفلوج تطاول بہ فلجہ قدرثلث سنین فوھب فی ھذہ الحالۃ جمیع مالہ من زیدوارثہ وسلمہ ذٰلك ثم مات بعد عدۃ اشھر عنہ لاغیر فھل الھبۃ صحیحۃ الجواب نعم والمفلوج الذی لایزداد مرضہ کل یوم فھو کالصحیح کما فی الخانیۃ[2] وفی الفتاوی الخیریۃ حیث کان بالوصف المذکور وھوانہ ای المرض لایمنعہ الخروج لقضاء حوائجہ فھبتہ لاحد اولادہ وبیعہ لبقیتھم بالغبن مطلقًا صحیح نافذ،صرحوا بہ فی کل مرض یطول کالدق والسل والفالج[3]۱لخ۔ |
ردالمحتارمیں اسمٰعیلیہ سے منقول ہے جو شخص کسی بیماری میں مبتلاہو اوربازار کی طرف جاتاہے اوراپنی حوائج کوپوراکرتاہے تو وہ مرض الموت کامریض نہیں ہے۔اس کے مال میں تبرعات معتبرہیں۔جب وہ اپنے کسی وارث سے بیع کرے یا ہبہ کرے وہ باقی وارثوں کی اجازت پرموقوف نہیں ہوگا۔عقود دریہ میں ہے ایسے مفلوج کے بارے میں سوال کیاگیا جس کا مرض فالج تین سال تك لمباہوگیا۔اس نے اسی حالت میں اپناتمام مال اپنے ایك وارث زیدکوہبہ کرکے اس کے حوالے کردیا۔پھراس کے چندماہ بعد وہ مرگیا توکیااس کایہ ہبہ صحیح ہوگا۔جواب یہ ہے کہ ہاں،اوروہ مفلوج جس کامرض ہر روز بڑھ نہ رہا ہو وہ صحتمند کی مثل ہے جیساکہ خانیہ میں ہے۔ فتاوٰی خیریہ میں ہے جب وہ وصف مذکورپرہے اور اس کا مرض ضروریات پوراکرنے کے لئے گھرسے نکلنے سے مانع نہیں تو اس کااپنی اولاد میں سے ایك کے لئے ہبہ کرنااور باقیوں کے لئے غبن کے ساتھ بیع کرنامطلقًا صحیح اور نافذ ہے۔علماء نے ہرطویل مرض کے بارے میں اس حکم کی تصریح کی ہے جیسے تپ دق،سِل اورفالج الخ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع