30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوربعض کتب میں کہ عدم خوف موت کی قیدکرکے اکابرعلماء ارشاد فرماتے ہیں یہ کوئی قیدجداگانہ نہیں بلکہ مجردایضاح وبیان واقع ہے یعنی طول سنۃ کے بعد مریض کایہ حال ہوجاتاہے کہ وہ مرض طبعی ہوجاتا ہے اورخوف موت کاغلبہ نہیں رہتاہے۔ علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
|
والظاھران قولہ کالفالج الخ تصویر للمرض اذالحال ولم یخف منہ الموت ولیس قولہ ولم یخف منہ الموت تقییدا بل بیانا لحال ذٰلك المرض عند طولہ ثم رأیت الحموی فی شرحہ قال ان تطاول ذٰلك فلم یخف منہ الموت ھٰذہ الجملۃ ای الاخیرۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ ونقلہ عن المفتاح انتھی۔[1] |
ظاہریہ ہے کہ اس کاقول کالفالج(مثل فالج کے) مرض کی صورت کابیان ہے اس لئے کہ طوالت مرض کے سبب مریض کاحال یہ ہوجاتاہے کہ اس پرموت کاخوف نہیں رہتا، اور اس کا قول کہ اس کو موت کاخوف نہیں رہتا،تقیید نہیں بلکہ اس مرض کے لمباہوجانے کے وقت اس کے حال کا بیان ہے۔پھرمیں نے حموی کودیکھا انہوں نے اس کی شرح میں یوں کہاکہ اگربیماری لمبی ہوجائے توموت کاخوف نہیں رہتا،یہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہے۔یہ مفتاح سے منقول ہے،انتہی۔(ت) |
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
|
قولہ ولم یخف منہ الموت ھٰذہ الجملۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ حموی عن المفتاح۔[2] |
اس کاقول کہ"اس سے موت کاخوف نہیں رہتا"یہ جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہے،اس کوحموی نے مفتاح سے نقل کیاہے۔(ت) |
آخرنہ دیکھاکہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے سال گزرنے کے بعد فالج وغیرہ کو لم یخف منہ الموت(اس کوموت کاخوف نہیں رہتا۔ت)کی مثال میں داخل فرمایا اگرچہ اس حد کو پہنچ گئے ہوں کہ چلنے پھرنے سے معذور اورصاحب فراش کردیں کما سبق نقلہ اٰنفا فافھم وتدبر(جیساکہ اس کامنقول ہونابھی گزراہے۔غوروتدبرکرو۔ت) اور اس کی وجہ وہی ہے جوہم ابھی دررعلامہ خسرو سے نقل کرآئے،عالمگیریہ میں تصریح ہے کہ شروع مرض فالج میں خوف ہلاك ہوتاہے اوربعد تطاول کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع