30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مات قبل تمام سنۃ مشتملۃ علی الفصول الاربعۃ کان المرض مرض الموت فتعتبر تصرفاتہ من الثلث وان مات بعدتمامھا لم یکن مرض الموت لانہ اذا سلم فی الفصول وفی کل منھا مظنۃ الھلاك صار المرض بمنزلۃ طبع من طبائعہ وخرج صاحبہ من احکام المرض حتی لایشتغل بالتداوی۔[1] |
کچھ تصرف کرے پھربیماری کوچارموسموں پرمشتمل سال پورا ہونے سے پہلے وہ مرجائے تو اس کی بیماری مرض الموت قرار پائے گی اورایك تہائی سال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے۔ اوراگروہ بیماری کوسال پوراہونے کے بعد مرا تو اس کی یہ بیماری مرض الموت نہ ہوگی،اس لئے کہ جب وہ چاروں موسموں میں سلامت رہا حالانکہ ان میں سے ہرایك میں ہلاکت کاگمان تھا تو گویا یہ بیماری اس کے طبائع میں سے ہوگئی چنانچہ اس بیماری والامرض کے احکام سے خارج ہوگیا یہاں تك کہ اس نے علاج کرانا بھی چھوڑدیا(ت) |
یہاں تك کہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے اطلاق متون وشروح پرنظرکرکے تصریح فرمادی کہ فالج وغیرہ کوبعد تطاول وازمان مرض موت نہ کہناچاہئے اگرچہ صاحب فراش ہو اورچلنے پھرنے سے معذورکردیں،
|
حیث قال فی المعراج وسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذٰلك علٰی ان لایقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الدار،اھ اقول:و الظاھرانہ مقید بغیرالامراض المزمنۃ التی طالت و لم یخف منھا کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش و منعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلایخالف ماجری علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تأمل[2] انتھی ملخصًا۔ |
جہاں معراج میں کہاکہ صاحب منظومہ سے سوال کیاگیاکہ مرض الموت کی حدکیاہے،توانہوں نے فرمایااس مسئلہ میں ہمارا اعتماد اس پرہے کہ مریض اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہرجانے پرقادرنہ ہو الخ،میں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم امراض طویلہ کے غیرکے ساتھ مقیدہے جن کی طوالت اس حد تك ہوجاتی ہے کہ موت کاخوف جاتارہتاہے جیسے فالج وغیرہ اگرچہ یہ مریض کو صاحب فراش بنادیں اوراس کو اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہر جانے سے روك دیں،لہٰذا یہ اس کے خلاف نہ ہوا جس پراصحاب متون وشروح قائم ہیں،یہاں غورکرو،انتہی(تلخیص)۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع