30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فسّر التطاول بسنۃ فلو تصرف بعد سنۃ من مرضہ فھو کتصرفاتہ حال الصحۃ ھٰکذا کان شیخنا ابوعبداﷲ الجرجانی یقول ھذا اللفظ الواقعات وبھذا اللفظ اوردہ فی جامع الفتاوی عمادیۃ[1]الخ۔وفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ المصرح بہ فی غیر ماکتاب من کتب ابی حنیفۃ ان المقعدوالمفلوج والمسلول اذا اتصف کل داء منھم بالطول فحکم تصرف کل واحد منھم حکم تصرف الصحیح کما صرح بہ فی الجامع الصغیر فکان ھو الصحیح فاذا علمت ذٰلك علمت ان المدۃ المذکورۃ فوق ماقدروہ اضعافا فان اصحابنا قدروالمرض یطول بعام والمدۃ سبعۃ اعوام والاشھر الزوائد وقع زائدھا الیھا مضافا لاسیما مع کونہ یخرج ویجیئ فی حوائجہ ویقضی من ذٰلك بعض مصالحہ فاذا ثبت ذٰلك لدی الحاکم الشرعی صح جمیع ماصدرمنہ مع زوجتہ واذا تعارضت بیّنۃ |
طوالت مرض کی تفسیر ایك سال کے ساتھ کی گئی ہے اگراس نے سال کے بعد حالت مرض میں تصرف کیا تو وہ اس کے حالت صحت میں کئے ہوئے تصرفات کی مثل ہے۔ہمارے شیخ ابوعبداﷲ جرجانی یونہی فرماتے تھے،یہ لفظ واقعات کے ہیں،اورانہی لفظوں کے ساتھ جامع الفتاوی عمادیہ میں وارد ہے الخ۔فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ مخلوق کے نفع کے لئے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کی متعدد کتب میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ اپاہج،مفلوج اورسِل کامریض جب لمبی بیماری میں مبتلا ہوجائے تو ان میں سے ہرایك کاتصرف صحتمند شخص کے تصرف کی مثل ہوتاہے جیساکہ اس کی تصریح جامع صغیر میں ہے گویاکہ وہ صحت مندہے۔جب تُونے یہ جان لیاتوسمجھ لیا ہوگا کہ مدت مذکورہ ہمارے اصحاب کی مقررکردہ مدت سے کئی گنازیادہ ہے کیونکہ ہمارے علماء نے طوالت مرض کی مدت ایك سال مقرر کی ہے جبکہ مدت مذکورہ سات سال اورکچھ ماہ مزید ہے،یہ زیادتی مدت مذکورہ سے کئی گناہے خصوصًا جبکہ مریض گھرسے نکلتااوراپنی ضروریات کے لئے آتاجاتاہے اوربعض ضروریات کواداکرتاہے،جب حاکم شرعی کے پاس یہ ثا بت ہوگیا توکچھ معاملہ اس مریض کا اپنی بیوی کے ساتھ صادرہوا وہ صحیح ہوگا۔اگرصحت ومرض کے گواہوں میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع