30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صرحوابہ فی کل مرض یطول کالدق والسل والفالج [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نافذہے۔علماء نے ہرطویل مرض کے بارے میں اس حکم کی تصریح فرمائی جیسے دِق،سل اورفالج وغیرہ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۰۵ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کوعارضہ فالج ہوااور وہ عروض عارضہ کے ساڑھے تین برس بعد یاہبہ یاکوئی تصرف وارث یا غیروارث کسی کے نام کرے تو وہ تصرف شرعًا جائزرہے گا یانہیں اورمرض شرعًا مرض الموت قرارپائے گا یاغیر؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
ہمارے ائمہ کرام نے فالج ودِق وسِل وغیرہا امراض مزمنہ کے مرض الموت ہونے کے لئے سال بھر کی حد مقرر فرمائی ہے اگر اس کے اندر موت ہو تووہ مرض الموت قرارپاتے ہیں اور جب ایك سال سے تجاوزہوجائے تواس مریض کاحکم شرعًا بعینہٖ مثل صحیح وتندرست کے ٹھہرتاہے اورجوکچھ تصرفات بیع خواہ ہبہ خواہ کچھ اوروارث خواہ غیروارث کسی کے نام کرے مثل تصرفات صحیح کے صحیح ونافذ قرارپاتاہے۔
|
فی الفتاوٰی للامام قاضی خان،اذا تصرف بعد سنۃ فہو کالصحیح یجوز تصرفاتہ انتھی[2]،وفی الفتاوی العالمگیریۃ عن فتاوٰی التمرتاشی،فسّراصحابنا التطاول بالسنۃ فاذا بقی علی ھذہ العلۃ سنۃ فتصرفہ بعد سنۃ کتصرفہ حال صحتہ[3] وفی الطحاوی فی مختصرہ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ للعلامۃ |
امام قاضی خان کے فتاوٰی میں ہے جب مریض نے ایك سال بعد تصرف کیاتو وہ صحیح کی مثل ہے اور اس کے تصرفات جائز ہیں،انتہی۔فتاوٰی عالمگیریہ میں بحوالہ فتاوٰی تمرتاشی مذکور ہے ہمارے علماء نے طوالت مرض کی تفسیر ایك سال کے ساتھ کی ہے،اگر وہ اس بیماری پر ایك سال قائم رہاتوسال کے بعد اس کے تصرفات ایسے ہی ہوں گے جیسے تصرفات وہ حالت صحت میں کرتاتھا۔طحاوی اس کی مختصر اورعلامہ شامی علیہ الرحمۃ کی تصنیف العقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع