30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے توکوئی مفلوج ومدقوق ومسلول کبھی خالی نہیں ہوتا اگرچہ سالہاسال گزرجائیں پھراس قید کے لگانے سے کیا فائدہ ہوگا بلکہ اعلٰی درجہ کاخوف واندیشہ شدیددرکارہے۔
|
فی ردالمحتار عن الکفایۃ ثم المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف۔[1] |
ردالمحتار میں کفایہ کے حوالے سے منقول ہے،پھر خوف سے مراد اس کاغلبہ ہے نہ کہ نفس خوف۔(ت) |
اوراس خوف کی امام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی وغیرہ علماء نے یوں تفسیر کی کہ جب ان امراض سے یہ نوبت پہنچے کہ اپنی حوائج کے لئے گھر سے باہرنہ نکل سکے تواس وقت خوف موت کہاجائے گا۔
|
فی تنویرالابصار من غالب حالہ الھلاك بمرض او غیرہ بان اضناہ مرض عجزبہ عن اقامۃ مصالح خارج البیت۔[2] |
تنویرالابصار میں ہے کہ غالب حال اس کاہلاکت ہوبیماری سے یا اس کے غیرسے اس طورپر کہ بیماری نے اس کو اسی قدر کمزورکردیاہو جس سے گھر کے باہر وہ اپنے معاملات و ضروریات قائم رکھنے سے عاجز ہوگیاہو۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
ھو الاصح کعجز الفقیہ عن الاتیان الی المسجد[3]۔ |
یہی زیادہ صحیح ہے جیسے فقیہ مسجد کی طرف آنے سے عاجزہو جائے۔(ت) |
اوراس قید کے لگانے کے بعد بھی امام شامی فرماتے ہیں:
|
فان قلت ان مرض الموت ھو الذی یتصل بہ الموت فما فائدۃ تعریفہ بما ذکرقلت فائدتہ ان قد تطول سنۃ فاکثر کما یأتی فلایسمی مرض الموت وان اتصل |
اگرتُوکہے کہ مرض الموت تو وہ ہے جس کے ساتھ موت مقترن ہو۔پھرموت کی یہ تعریف جوذکرکی گئی اس کاکیافائدہ ہے۔میں کہتاہوں کہ بیماری کبھی سال یا اس سے زائد عرصہ تك لمبی ہوجاتی ہے جیساکہ آرہاہے تواس بیماری کومرض الموت نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع