30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی التمرتاشی اورجامع الفتاوٰی اورفصول عمادیہ اوردررعلامہ خسرو اور مفتاح اورغمزالعیون علامہ احمدحموی اورمجتبٰی زاہدی اور فتاوٰی خیریہ اوردرمختار اورحاشیہ علامہ حلبی اورردالمحتار علامہ شامی اورفتاوٰی حامدیہ اورعقودالدریہ اورفتاوٰی ہندیہ وغیرہا متون وشروح وفتاوٰی میں اس مسئلہ کی تصریح ہے یہاں تك کہ علامہ محمدبن عابدین افندی شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے متون وشروح کے اطلاق وعموم پرنظرفرماکر حاشیہ درمختارمیں تصریح کردی کہ اگرفالج وغیرہ امراض مذکورہ ایك سال کے بعد صاحب فراش بھی کردیں اورمریض چلنے پھرنے سے معذورمطلق ہوجائے جب بھی اسے مرض موت نہ کہاجائے گا کیونکہ ایك سال تك تطاول ہوگیا،
|
حیث قال،قال فی المعراج،وسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذٰلك علٰی ان یقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الداراھ اقول: والظاھرانہ مقید بغیر الامراض المزمنۃ التی طالت ولم یخف منہ الموت کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش ومنعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلا یخالف ماجرٰی علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تامل[1] انتھٰی ملخصا۔ |
جہاں فرمایا کہ معراج میں کہا ہے صاحب منظومہ سے مرض الموت کی حدکے بارے میں سوال کیاگیاتواس نے کہاہمارا اعتماد اس مسئلہ میں اس بات پرہے کہ مریض اپنی حاجات کے لئے گھرسے باہرنہ جاسکے الخ میں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم دیرتك رہنے والی بیماریوں کے غیرکے ساتھ مقیدہے جو لمبی ہوجاتی ہیں اوران میں موت کا خوف نہیں ہوتا جیسے فالج وغیرہ،اگرچہ وہ مریض کوصاحب فراش بنادیں اوراسے حاجات کے لئے نکلنے سے روك دیں۔یہ بات اس کے مخالف نہیں جس پراصحاب متون اورشارحین چلے۔غورکرو انتہٰی، تلخیص(ت) |
اوروہ جو بعض کتب میں عدم خوف موت کی قید ہے بہت علماء مثل صاحب مفتاح وعلامہ احمد حموی شارح اشباہ وعلامہ ابراہیم حلبی وعلامہ امین الملۃ والدین شامی وغیرھم رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ کوئی قیداحترازی نہیں بلکہ بعد تطاول ان امراض کے حال کی شرح ہے یعنی جب سال گزرجاتاہے تو ان امراض سے وہ خوف نہیں رہتا جسے شرع مرض الموت میں اعتبارکرتی ہے۔
|
قال فی الفتاح،ان تطاول ذٰلك فلم یخف منہ الموت ھٰذہ الجملۃ |
مفتاح میں کہاکہ اگروہ بیماری لمبی ہوجائے تو اس سے موت کاخوف نہیں رہتا۔یہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کے لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع