30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من الاٰخر کما فی عدۃ مواضع من الخیریۃ والعقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ۔ |
دوسرے سے اخذ کئے جاتے ہیں جیساکہ خیریہ اور عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کے متعدد مقامات پرمذکورہے۔(ت) |
اورنظر دقیق حاکم کہ اس نفس وصیت کو مخالف تعامل سمجھنا ہی محض باطل کہ منافات فعل اور کف میں ہے نہ فعل وترك بمعنی عدم وقوع فعل میں،کما ھو المقرر فی اصولنا معشر اھل السنۃ و الجماعۃ(جیساکہ ہمارے یعنی اہل سنت وجماعت کے اصول میں مقررہے۔ت) یہاں تك کہ ہمارے ائمہ کالعلامۃ المحقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدّین محمد بن الھمام والفاضل الشیخ زین بن نجیم المصری وغیرھما(جیسا کہ علامہ محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمدبن ہمام اور عظیم فاضل شیخ زین بن نجیم مصری اوران دونوں کے علاوہ دیگرعلماء۔ت) تصریح فرماتے ہیں کہ ترك بمعنی مذکور زیرقدرت عبدداخل نہیں۔
|
وھذا نص الاشباہ فی المبحث الاول فی حد النیۃ من القاعدۃ الثانیۃ بعد ذکر معناھا اللغوی وفی الشرع کما فی التلویح قصدالطاعۃ والتقرب الی اﷲ تعالٰی فی ایجاد الفعل انتھی ولایرد علیہ النیۃ فی التروك لانہ کما قدمناہ لایتقرب بھا الااذاصار الترك کفا وھو فعل وھو المکلف بہ فی النھی لاالترك بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر[1]انتھی۔ |
یہ نص ہے اشباہ کی جومبحث اول میں نیت کی تعریف کی تعریف کے بارے میں ہے،قاعدہ ثانیہ میں نیت کالغوی معنی بیان کرنے کے بعد مذکور ہے،اوراصطلاح شرع میں جیساکہ تلویح میں ہے نیت کہتے ہیں ایجاد فعل میں طاعت اور اﷲ تعالٰی کاتقرب حاصل کرنے کاقصد کرنا،اور اس تعریف پر ترك فعل کی نیت کے ساتھ اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ اس کے ساتھ تقرب حاصل نہیں کیاجاسکتا مگراس وقت جب ترك بمعنی کف یعنی رکناہو اوروہ فعل ہے اورنہی میں بندے کو اسی کے ساتھ مکلف بنایا جاتاہے نہ کہ ترك بمعنی عدم اس لئے کہ وہ بندے کی قدرت میں داخل نہیں جیساکہ تحریرمیں ہے انتہٰی۔(ت) |
اورجب ایساہو تو اس میں اتباع غیرمقدوراورجہاں اتباع ناممکن مخالفت کاکیامحل،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع