30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الکلام۔ |
جاننے والے پرپوشیدہ نہیں۔(ت) |
پس اس روایت اورائمہ کی تقریر وافتاء وحکایت کی بناپر یہ تخارج بھی صحیح اورجائزواقع ہوااور صاحبزادی صاحبہ کو بعدانتقال مورث کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا اوراگریہ روایت بوجہ قلت شہرت یا عدم ظہورعلت پایہ اعتبارسے ساقط مانی جائے توضرور یہ تخارج باطل قرارپائے گا مگر اس کے کاغذوصیت میں مذکور ہونے سے وصایائے مذکورکیوں باطل ہونے لگیں ھذا باطل صریح(یہ واضح طورپرباطل ہے۔ت) علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر ایك شیئ کی وارث اوراجنبی کے لئے بالمناصفۃ وصیت کی وہ وصیت وارث کے حق میں باطل اوراجنبی کے نصف میں صحیح اورنافذ رہے گی۔
|
ففی تنویرالابصار،ولاجنبی ووارثہ اوقاتلہ لہ نصف الوصیۃ وبطل وصیتہ للوارث والقاتل [1]انتھی ومثلہ فی عامۃ الکتب۔ |
تنویرالابصارمیں ہے کہ اجنبی اوروارث یا اجنبی اورقاتل کے لئے وصیت کی تواجنبی کووصیت کانصف ملے گا جبکہ وارث اورقاتل کے بارے میں اس کی وصیت باطل ہوگی انتہی،اور اسی کی مثل عام کتابوں میں ہے۔(ت) |
سبحان اﷲ! جب عقد واحد ولفظ واحد میں شیئ واحد کہ دوشخصوں کے نام وصیت کی اورایك کے لئے شرع نے اجازت نہ دی صرف اسی کے حق میں باطل ہوئی اور اس بطلان نے نصف باقی تك سرایت نہ کی،توجہاں عقد متعدد لفظ متعدد معقود علیہ متعدد اورایك عقد ان میں سے باطل ہو ان دونوں کے ایك کاغذ میں ذکر کردینے سے کیونکراس کابطلان اس تك ساری ونافذ ہوجائے گا،ایسی بے اصل وجہ سے وصایائے مذکور کاابطال کوئی عاقل تجویز نہیں کرسکتا اوریہیں سے ظاہرہوگیاسوال اخیر کا جواب کہ اوقاف صحیحہ شرعیہ میں جب بوجہ جہالت شرط واقف معمول قدیم پرمستقر اعتبار رہے توجو وصیت اس کے مطابق ہوگی جائزاورجومخالف ہوگی باطل،اورباطل کابطلان جائزتك سرایت نہ کرے گا کما اوضحناہ مع انہ کان واضحا (جیساکہ ہم نے اس کی وضاحت کردی باوجودیکہ یہ واضح تھا۔ت) اورانہیں وجوہ سے وہ فقرہ کہ وصیت نامہ میں جناب بی بی صاحبہ کی نسبت تحریرہوا صحت وصایائے سابقہ میں خلل اندازنہیں ہوسکتا اگرچہ اس کی تحریربی بی صاحبہ کو برتقدیر حیات بعد مورث ترکہ سے حاجب نہ تھی گویہ تحریر ان کی رضا سے واقع ہوئی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع