30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الکتابۃ من غمز العیون والبصائر،یجوزالاعتماد علی خط المفتی اخذا من قولھم یجوز الاعتماد علی اشارتہ فالکتابۃ اولی [1]انتھی،لکن فیہ جھالۃ الا ان یقال ان المشائخ کلھم ممن یستند بقولہ فلاتضرجھالتہ کما یقال فی کثیر من المسائل قال بعضھم یجوز وبعضھم لاوان سلم فمعتمدنا تقریر تلك الفحول التحاریر اما قول العلامۃ الحموی فی شرح مانحن فیہ،قولہ علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث جاز ای صح اقول:یتأمل فی وجہ صحّۃ ذٰلك فانہ خفی [2] انتھی فاقول: ھذا کما تری صریح فی القبول اذا ذعن رحمہ اﷲ ان لہ وجھًا صحیحًا ولکنہ خفی حری التامل ولولاذٰلك لقال ھذا مما لاوجہ لہ فلایعول علیہ،وھذا مما لایخفی علی العارف باسالیب |
نے شرح احکام الکتابۃ میں بحوالہ غمزالعیون والبصائر کہامفتی کے خط پراعتماد جائزہے مشائخ کے اس قول کااعتبار کرتے ہوئے کہ مفتی کے اشارہ پر اعتماد جائزہے کیونکہ کتابت اشارہ سے اولٰی ہوتی ہے انتہٰی،لیکن اس میں جہالت ہے مگریہ کہ یوں کہاجائے کہ تمام مشائخ وہ ہیں جن کے قول سے استناد کیاجاتاہے تواب جہالت مضرنہ ہوگی جیساکہ بہت سے مسائل میں کہاجاتاہے ان میں سے بعض نے کہاکہ جائزہے اوربعض نے کہاکہ نہیں جائزہے،اگراس کوتسلیم کربھی لیاجائے توہمارا معتمدان جیّد متبحرعلماء کی تقریرہے۔رہاہمارے زیربحث مسئلہ کی شرح میں علامہ حموی کافرمان کہ مرنے والے کایہ کہنا کہ یہ اس شرط پرہے کہ باپ کی موت کے بعد اس بیٹے کے لئے کوئی میراث نہ ہوگی یہ جائزاورصحیح ہے،تو میں کہتاہوں اس کی وجہ صحت میں تامل کرناچاہئے کیونکہ یہ خفی ہے انتہٰی۔میں کہتاہوں جیساکہ تودیکھ رہاہے یہ قبول میں صریح ہے کیونکہ علامہ حموی رحمۃ اﷲ علیہ نے اذعان فرمایا کہ اس کے لئے وجہ صحیح ہے لیکن وہ خفی ہے جوتامل کے لائق ہے،اگرایسانہ ہوتاتوحضرت علامہ یوں فرماتے کہ اس کے لئے کوئی وجہ نہیں لہٰذا اس پراعتماد نہ کیاجائے اوریہ بات کلام کے اسلوبوں کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع