30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان مات احدالوصین واوصی الی جماعۃ لم یتفرد واحد بالتصرف ویجعل نصف الغلۃ فی یدالجماعۃ الذین قاموامقام الوصی الھالک[1] |
سے منقول ہے اگردوصیوں میں سے ایك مرگیا اوروہ ایك جماعت کے بارے میں وصیت کرگیا تواکیلے تصرف میں مستقل نہ ہوگا، اوروقف غلہ میں سے نصف اس جماعت کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا جومرنے والے کے قائمقام ہوئی۔(ت) |
پس دونوں صاحب شرعًا متولی اوقاف مذکورہ ہوئے اورایسے ہوئے کہ ایك بے دوسرے کے تصرفات قوامت میں مستقل نہیں ہوسکتا۔
|
فقد صرحوا فی الوقف والوصایا ان القوامۃ والوصایاۃ اذاکانت الی اثنین لم یجز ان ینفرد احدھما عن الاٰخر۔ |
تحقیق مشائخ نے وقف ووصایا کے بارے میں تصریح کی کہ تولیت اوروصیت جب دوشخصوں کے لئے ہوتوان میں سے کسی ایك کا دوسرے سے منفردہوناجائزنہیں۔(ت) |
اوراحمدبن محمدکے نام جائداد مملوك میں ثلث کی وصیت توبدیہی الصحت والنفاذہے۔
|
فلقد قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ تعالٰی تصدق علیکم بثلث اموالکم فی اٰخراعمارکم[2] او کما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
تحقیق نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اشاد فرمایابیشك اﷲ تعالٰی نے تمہاری عمروں کے آخرمیں تمہارے تہائی مال کے ساتھ تم پر صدقہ فرمایا یاجیساآپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔(ت) |
نہ احمد بن محمدباوجود حامدوارث نہ وصیت قدرثلث سے متجاوزکہ کل یامقدار زائدمیں اجازت ورثاء کی احتیاج ہوتی۔
|
فی تنویرالابصار،ویجوز بالثلث للاجنبی وان لم یجزالوارث ذٰلک[3]الخ۔ |
تنویرالابصار میں ہے کہ اجنبی کے لئے ایك تہائی کی وصیت جائزہے اگرچہ وارث اس کوجائزنہ رکھیں الخ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع