30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۱۰۳: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سیدناسیدابوالحسین احمدنوری میاں صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۱۲۹۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین قدس اﷲ تعالٰی اسرارھم العزیزہ سے ایك بزرگ نے اپنے آباء کرام کے سجادہ نشین اورجائداد وقضیہ در گاہ وخانقاہ وقف کردہ امراء اسلام کے متولی تھے بنام اپنے صاحبزادہ حامد اور اپنے نبیرہ احمدبن محمد کے لئے وصیت فرمائی یہ دونوں بعد میرے متولی تمام جائداد ومصارف درگاہ خانقاہ اورجملہ امور متعلقہ ریاست درگاہی وخانقاہی میں شریك مساوی رہیں اورمیری جائداد مملوکہ سے احمدبن محمدنبیرہ میراثلث حصہ بموجب وصیت شرعیہ پائے اور اس وصیت کو ایك کاغذپرتحریرفرمایا اورجناب ممدوح نے اپنی صاحبزادی کو اس قدرحصہ کہ بعد وفات انہیں پہنچناتصورکیاجاتاخواہ اس سے کم اپنی حیات میں اس شرط پر دے کر قبض ودخل کرادیا کہ اب ان کے لئے میراث میں حق نہ ہوا اوریہ تخارج برضامندی ان کی واقع ہوااورصاحبزادی صاحبہ کی طرف سے حکام کے یہاں تصدیق اس مضمون کی گزرگئی کہ میں نے اپنا حصہ پالیا اب مجھے بعدانتقال حضرت مورث کچھ دعوی ترکہ میں نہ رہا جناب ممدوح نے یہ مضمون بھی اسی وصیت نامہ میں ذکرفرمایا آیا اس صورت میں وہ وصیت کہ حضرت موصوف نے دربارہ تولیت فرمائی اوروصیت ثلث مال مملوك نسبت احمدبن محمدشرعًا جائزاورنافذ ہے یانہیں اوریہ تخارج کہ حضرت ممدوح اورصاحبزادی صاحبہ میں و اقع ہوا شرعًا معتبرہے یانہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع