30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
(۱) یہ حرام ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث ہے:کل قرض جرمنفعۃ فہوربا[1]۔جوقرض نفع کوکھینچ لائے وہ سود ہے(ت)
(۲) یہ بھی حرام ہے،مالك کو اس کی شے کرایہ پردینا اوربھی بے معنی ہے،ہاں اگررہن سے بازآئے اوراس کی گاڑی اسے واپس دے اوراپنا گھوڑا سات روپے مہینے کرایہ پردے توجائزہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۸: ازضلع رنگپور ڈاك خانہ مہی پور موضع کلقند مدرسہ ملك بنگال مسئولہ فصل علی صاحب ۴/رمضان ۱۳۳۹ھ
|
چہ می فرمایند علمائے شرع متین ومفتیان دین مبین اندریں مسئلہ کہ شخصی چندبیگہ اراضی خود نزد کسے رہن داشتہ بعوضش یك صد روپیہ قرض گرفت ومرتہن بایں شرط کہ تامدّت ایفائے زرمقروض اززمین مرہونہ بادائے خراج زمینداران بکاشتکاری خودخواہد داشت،قرض دادپس ایں چنیں قرض دادن جائزست یانہ؟بیّنواتوجروا۔ |
کیافرماتے ہیں علمائے شرع متین ومفتیان دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی چندبیگھہ زمین کسی شخص کے پاس رہن رکھی اوراس کے بدلے ایك سوروپیہ قرض لیامرتہن نے اس شرط پرقرض دیاکہ مقروض سے قرض کی وصولی تك مرہون زمین کاخراج زمینداروں کودینے کے عوض اس زمین میں کاشتکاری کرے گا توکیاایساقرض دیناجائزہے یانہیں؟ بیان کرواجرپاؤگے(ت) |
الجواب:
|
قرض دادن رواست وآں شرط فاسد وبیجاست وآں رہن باطل وبے معنی ست دردرمختار ست کل ماکان مبادلۃ مال بمال یفسد بالشرط الفاسد کالبیع ومالافلا |
قرض دینا جائزہے اوروہ شرط فاسد وبے جا ہے اوررہن باطل وبے معنی ہے،درمختارمیں ہے:جس عقد میں مال کا مبادلہ مال سے ہو وہ شرط فاسد کے ساتھ فاسد ہوجاتاہے جیسا کہ بیع،اورجوعقدایسانہ ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع