30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالاولویہ۔ |
اس کے اولٰی ہونے کافیصلہ دیا ہے(ت) |
بلکہ وہ اﷲ واحدقہار کے غضب کاخبیث مال ہے کسی حال میں مرتہن کے لئے حلال نہیں ہوسکتااگرتوبہ بھی کرے گا تومقبول نہیں جب تك وہ سارالیاہواراہن یافقراء کونہ دے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۹ تا ۹۱: مرسلہ نیازالدین احمد ۱۶جمادی الاخرٰی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان صورتوں میں کہ:
(۱)شیئ مرہون میں تصرف جائزہے یانہیں؟
(۲)ہمارے اطراف میں ایك قطعہ زمین اس طورپرلیتے ہیں کہ مثلًا صاحب زمین کو سوروپے اس عہدوپیمان وقول پردیتے ہیں کہ صاحب زمین روپیہ اداکرسکے تو زمین مرتہن کے قبضہ سے چھوٹ کرراہن کے قبضہ میں آجاتی ہے اس میں بات اتنی ہے کہ مرتہن زمین کاخراج اداکرتے ہیں اورپیداوارزمین کوخودلیتے ہیں اورجس وقت وہ دئیے ہوئے روپے لے گا وہ سو روپے پورپورا لے گا۔
(۳)یہ صورت بعینہٖ دوسری ہے مگر ذرابیش وکم یہ ہے کہ دلیل اس طورپرلکھتے ہیں کہ اگر راہن مدت معہودہ میں روپیہ ادانہ کرے توزمین فروخت کرکے مرتہن کے قبضہ میں ہمیشہ کے لئے آجاتی ہے۔
الجواب:
مرتہن کومرہون سے انتفاع حرام ہے۔حدیث میں ہے:
|
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا۔[1] |
جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔(ت) |
زمین رہن رکھنے والا اگرخود مالك زمین ہے جیسے زمین دار معافیدار اگرچہ خراج گورنمنٹی بطورمالگزاری یاابواب اس پرہوجب تو یہ وہی صورت مرہون سے انتفاع کی ہے اور حرام ہے،اوراگررہن رکھنے والا کاشتکار ہے اورخراج وہ لگان ہے کہ زمین دار کو دیا جاتاہے تو اسے بے اجازت زمیندارنہ رہن رکھنے کااختیارنہ اسے رہن لینے کا۔اب کہ رہن رکھ دی اورمرتہن نے زمیندار کو لگان دی اوراس نے قبول کیایہ عقد اجارہ زمیندار و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع