30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۸۷: ازشہربریلی مدرسہ منظراسلام مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب بنگالی ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی زمین کو عمر کے پاس رہن رکھا مدت پانچ سال کی عمر اس زمین کو خرچ دے کرتصرف کرسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب:
کاشتکار بے اجازت زمیندار زمین کورہن نہیں رکھ سکتا اوربااجازت زمیندار ہوتو وہ اجارے پر نہ رہے گی اجارہ رکھیں گے کہ خراج دے اورکاشت کرے،تو رہن نہ رہے گا نہ زید کو زمین سے تعلق رہے گا عمرکاشتکار مستقل ہوجائے گا،روپیہ زیدپر قرض رہا وہ اداکرے اور اس کے بعد زمین واپس لینے کا اسے اختیارنہ ہوگا،ہاں اگر عمرخود چھوڑدے چھوڑدے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۸: ۲۰/ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص کسی کے پاس کوئی چیزرہن رکھے اوروہ مرتہن اس چیزپر برابرسُودلیتا رہے،اور فرض کرو کہ اس نے دوسوروپیہ کاسُود لیااب وہ شخص جس کی وہ چیزہے رہن چھٹانا چاہتا ہے تو وہ مرتہن یہ کہتاہے کہ دوسوروپیہ میں سے میں تم کو پانچ روپیہ واپس دیتاہوں اس شرط پرکہ تم شریعت کی رُوسے جوسُود کہ تم نے دیا ہے معاف کرو لیکن مالك چیزاس خوف سے کہ یہ پانچ روپیہ بھی ہاتھ سے جاتے ہیں معاف کرنے پر راضی ہوجائے تویہ معافی جائزہوگی یاناجائز؟اگرناجائز ہے تو اس کی کیاصورت ہوگی؟ اور ایسی صورت میں مرتہن کو اپنے سُود کاکتناحصہ دیناچاہئے؟
الجواب:
مرتہن پرفرض ہے کہ جتنا سُودلیاہے سب راہن کوواپس دے اور یہ اولٰی ہے یا فقرائے مسلمین پرتصدق کرے اس میں سے اپنے صرف میں ایك حبّہ لانا اسے حرام ہے اوراگر صرف کرچکاہے اس کامعاوضہ راہن یافقیروں کودینافرض ہے،راہن کے معاف کئے سے معاف نہ ہوگا کہ یہ اس کا آتاہوانہیں جو اُس کے چھوڑے سے چھوٹ جائے،
|
الاتری انہ لایجب علی الآخذ ردّہ الیہ انما حکموا علیہ |
کیاتُونہیں دیکھتاکہ لینے والے پرواجب نہیں کہ وہ راہن کو واپس کرے۔مشائخ نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع